تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 238
حسان کر دے تو تیری ذرہ نوازی ہے تو اللہ تعالیٰ کو تمہاری کیا پروا ہ ہے۔حقیقت یہ ہے کہ مذہب کی جان اور اُس کا خلاصہ اور اس کی رُوح اگر کوئی چیز ہے تو وہ صرف دُعا ہی ہے۔مگر دُعا اس امر کا نام نہیں کہ انسان صرف مونہہ سے ایک بات کہہ دے اور سمجھ لے کہ دُعا ہوگئی۔دعا اللہ تعالیٰ کے حضور پگھل جانےکا نام ہے دُعا ایک موت اختیار کرنےکا نام ہے۔دُعا تذلل اور انکسار کا مجسم نمونہ بن جانے کا نام ہے۔جو شخص صرف رسمی طور پر مونہہ سے چند الفاظ دہراتا چلا جاتا ہے اور تذلّل اور انکسار کی حالت اس کے اندر پیدا نہیں ہوتی۔جس کا دل اور دماغ اور جس کے جسم کا ہر ذرّہ دُعا کے وقت محبت کی بجلیوں سے تھرتھرا نہیں رہا ہوتا وہ دُعا سے تمسخر کرتا ہے۔وہ اپنا وقت ضائع کر کے خدا تعالیٰ کا غضب مول لیتا ہے۔پس ایسی دُعا مت کرو جو تمہارے گلے سے نکل رہی ہو اور تمہارے اندر اس کے مقابل پر کوئی کیفیت پیدا نہ ہو۔وہ دعانہیں بلکہ الٰہی قہر کو بھڑکانے کا ایک شیطانی آلہ ہے۔جب تم دُعا کرو تو تمہارا ہر ذرہ خدا تعالیٰ کے جلال کا شاہد ہو تمہارے دماغ کا ہر گوشہ اس کی قدرتوں کو منعکس کر رہا ہو۔اور تمہارے دل کی ہر کیفیت اس کی عنایتوں کا لطف اٹھارہی ہو۔تب اور صرف تب تم دُعا کرنے والے سمجھے جا سکتے ہو۔یہ کیفیت پیدا ہونی بظاہر مشکل نظر آتی ہے مگرجس شخص کے ایمان کی بنیادعشقِ الٰہی پر ہو۔اس کے لئے اس سے زیادہ آسان اور کوئی شیٔ نہیں بلکہ اُس کی طبیعت کا یہ کیفیت ایک خاصہ بن جاتی ہے اور وہ ہر وقت اس سے لطف اندوز ہو رہا ہوتا ہے۔ایسے انسان کو یہ ضرورت نہیں ہوتی کہ وہ الگ جا کر اور مصّلیٰ پر بیٹھ کر دُعائیں کرے بلکہ وہ خلوت و جلوت میں دُعا کر رہا ہوتا ہے۔اور جب اُ س کی زبان پر اَور اَور کلام جاری ہوتے ہیں اور اس کی آنکھوں کے آگے اَور اَور نظارے پھر رہے ہوتے ہیں اُس کی رُوح اپنے مالک و خالق کے عتبۂ رحمت پر گِری ہوئی اپنے لئے اور ساری دنیا کے لئے طلب گار رحمت ہو رہی ہوتی ہے۔مگر فرماتا ہے فَقَدْ کَذَّ بْتُمْ فَسَوْفَ یَکُوْنُ لِزَامًا۔چونکہ تم پہلے ہی خدا تعالیٰ کے پیغام کو ردّ کر چکے ہو اس لئے اب اس تکذیب کا وبال تمہارے سر پر پڑے گا۔اور اس کا عذاب تمہارے ساتھ چپک جائے گا۔یعنی وہ لمبا ہوتا چلا جائےگا اور تم خود بھی اس دنیا میں ذلیل ہوگے اور تمہاری آئندہ نسلیں بھی ہر قسم کی برکتوں سے محروم رہیں گی۔یہ کتنا خطرناک وعید اور انذار ہے۔کاش دنیا کے لوگ اس بات کو سمجھیں کاش وہ اپنی عاقبت برباد نہ کریں۔کاش وہ اپنی اصلاح کریں۔کاش وہ خدا کی باتوں کی طرف توجہ کریں تاکہ واحد ویگانہ خدا اُن کی پرواہ کرنے لگے اور وہ اُن کے دلوں کو پاک کرکے پھر اپنی محبت کی گود میں بٹھالے۔وَاٰخِرُ دَعْوٰنَا أَنِ الْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ