تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 237 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 237

اللہ تعالیٰ نے آپ کو دنیا کا بادشاہ بنا دیا اور ایسی ترقی عطا کی کہ مذہب اور سیاست اور تمدن اور معاشرت سب پر آپ کا رنگ چھا گیا۔حتّٰی کہ آپ کے غلام یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کئے بغیر اور لیباریٹریز میں تجربات کرنے کے بغیر ہی ہر فن میں دنیا کے استاد بن گئے اور جس میدان میں بھی انہوں نے قدم رکھا تمام دنیا سے آگے بڑھ گئے۔اگر یہ خدا کی موہبت نہیں تو اور کیا چیز ہے ؟ ایک صحابی ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک دفعہ ایک اشرفی دی اور فرمایا کہ قربانی کے لئے بکری لے آئو۔میں نے سوچا کہ مدینہ میں تو اس رقم میں ایک ہی بکری ملے گی مگر کسی گائوں سے دو مل جائیں گی اس لئے میں نے ایک گائوں سے ایک اشرفی میں دو بکریاں خرید لیں۔جب واپس آیا تو مدینہ میں کسی نے پوچھا کہ کیا بکری فروخت کرو گے میں نے کہا۔ہاں؟ اور ایک بکری ایک اشرفی میں اُس کے پاس فروخت کر دی۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاکر میں نے بکری بھی پیش کر دی اور اشرفی بھی۔اور آپ کے دریافت فرمانے پر مَیں نے یہ تمام واقعہ عرض کر دیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوئے اور آپ نے مجھے دُعاد ی آپ کی اس دُعا کا یہ نتیجہ ہوا کہ باوجودیہ کہ عرب ایرانیوں اور رومیوں جیسے تاجر نہ تھے پھر بھی وہ صحابی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اُس دعا کے طفیل میری یہ کیفیت ہوگئی کہ اگر میں نے مٹی بھی خریدی تو وہ سونے کے بھائو بک گئی۔لوگ زبر دستی اپنا روپیہ میرے پاس تجارت کے لئے چھوڑ جاتے تھے اور میں لینے سے انکار کرتا رہتا تھا۔یہ لَوْلَا دُعَآؤُکُمْ کی صداقت ہی کا ایک کرشمہ تھا ورنہ اس میں اپنے کسی ہنر یا محنت کا دخل نہ تھا۔یہ خدا تعالیٰ کی اپنی آواز تھی جس کے ذریعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور آپ کے ساتھ ہی آپ کے وابستگانِ دامن بھی بڑھتے چلے گئے۔جیسے اگر کوئی شخص گھوڑے پر سوار ہو تو اُس کا کوٹ اور پاجامہ اور دوسرے کپڑے بھی ساتھ ہی سوار ہو جاتے ہیں۔پھر صحابہ ؓ نے یہاں تک ترقی کی کہ قیصر وکسریٰ کے خزائن مسلمانوں کے قبضہ میں آئے اور وہ بڑے بڑے ملکو ں کے بادشاہ بن گئے۔یہ بھی لَوْلَا دُعَآ ؤُکُمْ کی صداقت کا ہی ظہور تھا کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت خدا تعالیٰ کے فضل کے نتیجہ میں ہوئی اور پھر جب آپ بڑھے تو آپ کے وابستگانِ دامن بھی ساتھ ہی ترقی کر گئے۔یہی حکمت ہے جس کی بناء پر اللہ تعالیٰ نے کُوْنُوْا مَعَ الصَّادِ قِیْنَ ( التوبۃ :۱۱۹) کی تاکید فرمائی ہے کیونکہ جب صادقین کے لئے اللہ تعالیٰ کی رحمت کا پھاٹک کھلتا ہے تو ساتھ ہی اُن کی معّیت اختیار کرنے والے بھی داخل ہو جاتے ہیں۔پھر لَوْلَا دُعَآ ؤُکُمْ کے دوسرے معنے یہ ہیں کہ لو لا تضر عکم الیہ یعنی اگر تم اس کو نہ پکارو۔اور اُس کے حضور گریہ وبکانہ کرو اور عجز اور انکسار کے ساتھ اُس کے آگے جھک کر یہ نہ کہو کہ الٰہی ہمارا تو کوئی حق نہیں اگر تو ہم پر