تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 230 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 230

کلیات ابی البقاء میں لکھا ہے کہ اَلصَّبْرُ فِی الْمُصِیْبَۃِ صبر مصیبت کے وقت ہوتا ہے۔وَصَبَرَ الرَّجُلُ عَلَی الْاَمْرِ نَقِیْضُ جَزِعَ أَیْ جَرَؤَ شَجُعَ وَتَجَلَّدَ اور صبر جزع فزع کرنے کے مقابل کا لفظ ہے اور صبر کے معنے ہوتے ہیں جرأت اور ہمت دکھائی۔اور صَبَرَ عَنِ الشَّیْءِ کے معنے ہیں اَمْسَکَ عَنْہُ کسی چیز سے رُکا رہا۔اور جب صَبَرَ کا مفعول دَآبَّۃ کا لفظ ہوتو اس کے معنے ہوتے ہیں حَبَسَھَا بِلَا عَلَفٍ جانور کو چارہ نہ دیا۔اور صَبَرْتُ نَفْسِیْ عَلَی کَذَا کے معنے ہوتے ہیں حَبَسْتُھَا میں نے فلاں بات پر ثابت قدمی دکھائی۔گویا جب صبر کا صلہ علیٰ آئے تو اس کے معنے کسی امر پر ثابت قدم رہنے کے ہوتے ہیں اور جب ا س کا صلہ عن ہو تو اس کے معنے کسی چیز سے رُکنے یا کسی کو اُس سے روک دینے کے ہوتے ہیں ( اقرب)۔تاج العروس میں لکھا ہے کہ مصنف بصائر کے نزدیک صَبْرٌ کے لغوی معنے روکنے اور رُکنے کے ہیں۔اورجب ہم کہتے ہیں کہ فلاں نے صبر کیا تو اس کے معنے ہوتے ہیں حَبْسُ النَّفْسِ عَنِ الْجَزَعِ وَحَبْسُ اللِّسَانِ عَنِ الشَّکْوٰی وَحَبْسُ الجَوَارِحِ عَنِ التَّشْوِیْشِ۔یعنی جزع فزع سے رُکنا۔زبان سے شکوہ نہ کرنا اور اپنے اعضاء سے کسی قسم کی گھبراہٹ کا اظہار نہ ہونے دینا۔پس صبر کے معنے برائیوں سے رُکے رہنے اور نیکیوں پر مضبوطی سے قائم رہنے کے ہیں۔ا سی طرح صبر کے یہ معنے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں کسی تکلیف پر جزع فزع کا اظہار نہ کیا جائے۔نہ زبان سے نہ اعضاء و جوارح سے اور نہ کسی اور طریق سے۔تفسیر۔پھر فرماتا ہے۔رحمٰن کے بندوں کی ایک یہ بھی علامت ہے کہ وہ دُعا کرتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں اپنی بیویوں اور اولادوں کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما۔اور ہمیں متقیوں کا امام بنا۔افسوس ہے کہ مسلمانوں نے اپنے دور ِ اقتدار میں اس دُعا کو بھی نظر انداز کردیا اور وہ اپنی آئندہ نسلوں کی تربیت سے غافل ہو گئے۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک ایک کرکے تمام حکومتیں اُن کے قبضہ سے نکل گئیں اور اغیار نے اُن کے ملکوں پر قبضہ کر لیا۔اگر مسلمان اپنے دورِ حکومت میں اُن بلند اخلاق کے حامل رہتے جن کا اس سورۃ میں ذکر کیا گیا ہے اور وہ رات اور دن اللہ تعالیٰ سے یہ دعائیں کرتے رہتے کہ خدایا ہمیں ایسی اولاد عطا فرما جو ہماری آنکھوں کے لئے ٹھنڈک کا موجب ہو۔اور وہ اپنی آئندہ نسلوں کی نیک تربیت سے کبھی غافل نہ ہوتے تو وہ نالائق بادشاہ امتِ محمدیہ ؐ میں کیوں پیدا ہوتے جنہوں نے تخت و تاج کو اپنی عیاشیوں کی نذر کر دیا۔اور وہ حکومتیں جو اُن کے آبائو اجداد نے بڑی بڑی قربانیوں کے بعد حاصل کی تھیں اُن کو اپنی بد کرداریوں سے ضائع کردیا۔یہ تنزل مسلمانوں پر اس لئے آیا کہ وہ عباد الرحمٰن کے فرائض بھولتے چلے گئے اور جب انہوں نے خدا تعالیٰ کو بھُلا دیا تو خدا بھی انہیں بھول گیا۔اور اُس نے انہیں تاج و تخت سے محروم کر دیا بیشک یہ جو کچھ ہوا نہایت افسوسناک ہے لیکن اگر آئندہ کے لئے ہی مسلمان