تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 227
کھلی آنکھوں اور کھلے کانوں کے ساتھ اختیار کیا گیا ہو۔اگر کوئی شخص بغیر تحقیق کے کسی بات کو مان لیتا ہے اور حقیقی شعور اسے حاصل نہیں ہوتا۔تو قرآنی اصطلاح میں وہ ایمان کا دعویٰ کرنے کے باوجود بھی اندھا اور بہرہ ہوتا ہے کیونکہ نہ تو اُسے دین پر ثبات حاصل ہوتا ہے اور نہ خدا تعالیٰ کے قرب کی برکات سے اُسے کوئی حصہ ملتا ہے۔اسی طرح لَمْ یَخِرُّوْا عَلَیْھَا صُمًّا وَّ عُمْیَانًا کے ایک یہ بھی معنے ہیں کہ جب انہیں خدا تعالیٰ کی آیات یاد دلائی جائیں تو وہ اس کلام کے ذریعہ اُس طرح ٹھو کریں نہیں کھاتے جس طرح منافق اور کافر ٹھوکریں کھاتے ہیں۔منافقوں کی تو یہ کیفیت ہوتی ہے کہ جب غزوۂ احزاب کے موقعہ پر عرب کے تمام قبائل مدینہ پر لشکر لے کر آگئے تو انہوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ مَا وَعَدَنَا اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ اِلَّا غُرُوْرًا ( احزاب :۱۳) یعنی خدا اور اس کے رسول نے ہم سے کامیابی کا ایک جھوٹا وعدہ کیا تھا لیکن جب مومنوں نے حملہ آور لشکروں کو دیکھا تو وہ اپنے ایمان اور یقین میں اَور بھی بڑھ گئے اور انہوں نے کہا کہ ھٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ وَصَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ ( احزاب :۲۳) یعنی یہ تو وہ لشکر ہیں جن کاا للہ اور اُس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا اور اللہ اوراس کے رسول نےبالکل سچ کہا تھا۔گویا خدا تعالیٰ کی ایک عظیم الشان پیشگوئی کے پورا ہونے پر منافق تو ٹھوکر کھا گئے اور مومن اپنے ایمان اور اطاعت میں اور بھی بڑھ گئے۔اسی طرح جب بھی کوئی نشان خدا تعالیٰ اپنے دین کی تائیدکے لئے ظاہر کرتا ہے تو منافق جو اپنے دلوں میں بغض و حسد کی آگ لئے ہوئے ہوتے ہیں وہ تو اُن نشانات سے فائدہ اٹھانے کی بجائے ہنسی اور تمسخر میں مشغول ہو جاتے ہیں اور اُن نشانات کی قدر و قیمت کو کم کرنےکے لئے ہاتھ پائوں مارتے ہیں لیکن مومنوں کی یہ کیفیت ہوتی ہے کہ وہ خدائی نشانات کے ظہور پر اپنے دل کے کانوں کو اس طرح کھول دیتے ہیں کہ الٰہی نور اُن میں پہلے سے بھی زیادہ زور سے داخل ہونا شروع ہو جاتا ہے۔اور اپنی روحانی بینائی میں ایسی تیزی پیدا کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی معرفت اور اُس کی محبت کے میدان میں وہ پہلے سے بھی آگے نکل جاتے ہیں۔منافقوں کے متعلق اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میںایک اور مقام پر وضاحتًا فرمایا ہے کہ۔اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ لَعَنَھُمُ اللّٰہُ فَاَصَمَّھُمْ وَاَعْمٰٓی اَبْصَارَھُمْ ( محمد :۲۴)یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے اور اُس نے اُن کے کانوں کو بہرہ اور ان کی آنکھوں کو اندھا کر دیا ہے۔یعنی باوجود اس کے کہ خدا تعالیٰ کے نشانات بارش کی طرح بر س رہے ہیں اور قرآن کریم کے ذریعہ دنیا کو زندہ کیا جا رہا ہے۔بدی کی جگہ نیکی نے اور فسق و فجور کی جگہ تقویٰ و طہارت نے اور ظلم و ستم کی جگہ عدالت و انصاف نے اور بے مروّتی کی جگہ وفا اور اخلاص نے لے لی ہے پھر بھی یہ منافق اپنی شرارتوں سے باز نہیں آتے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کی روحانی آنکھیں بند ہیں اور ان کے روحانی کان بھی بند ہیں۔اگر ان کے کان