تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 226 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 226

لئے ہیں خدا تعالیٰ نے اس کی کوئی دلیل بیان نہیں کی۔یہ لوگ صرف اپنے اوہام کی یا اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کر رہے ہیں۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ قرآن کریم دشمنانِ اسلام پر یہ اعتراض کرتا ہے کہ وہ اُن بے دلیل باتوں کو جن کے لئے نہ آسمانی شہادت ہوتی ہے نہ عقلی مانتے ہیں اور اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں اور وہمی باتوں کے پیچھے چلتے ہیں۔اسی طرح قرآن کریم کی متعدد آیات میںاس امر پر زور دیا گیا ہے کہ ایمان دلائل اور برا ہین پر مبنی ہونا چاہیے نہ کہ وہم اور گمان پر۔چنانچہ سورۂ احقاف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔قُلْ اَرَءَيْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَرُوْنِيْ مَا ذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِي السَّمٰوٰتِ١ؕ اِيْتُوْنِيْ بِكِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ هٰذَاۤ اَوْ اَثٰرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ ( الاحقاف :۵) یعنی مجھے بتائو تو سہی کہ خدا کے سو ا جن وجودوں کو تم پکارتے ہو کیا اُن میں کوئی حقیقت بھی ہے ؟ اگرہے تو مجھے بتائو کہ انہوں نے زمین میں سے کس چیز کو پیدا کیا ہے ؟ یا یہ ثابت کرو کہ آسمانی باد شاہت میں ان کا کوئی حصہ ہے۔اگر تم سچے ہو تو اس کے لئے یا تو قرآن سے پہلے کسی آسمانی کتاب سے دلیل پیش کرو یا اپنے باپ دادا کی بتائی ہوئی کسی علمی بات کو ہی پیش کرو۔یعنی تمہارے شرکیہ مسائل نہ تو کسی آسمانی کتاب سے ثابت ہیں نہ کسی علمی دلیل سے ثابت ہو سکتے ہیں۔پھر ان پر ایمان لانا کس طرح جائز ہو سکتا ہے ؟ اسی طرح فرماتا ہے اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَيْهِمْ سُلْطٰنًا فَهُوَ يَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوْا بِهٖ يُشْرِكُوْنَ ( الروم :۳۶)یعنی کیا اللہ تعالیٰ کے شریک قرار دینے کی کوئی دلیل بھی ہے جو اللہ تعالیٰ نے مہیا کی ہو۔اور وہ شرک کی صداقت پر گواہ ہو۔اگر ایسا نہیں تو پھر بے دلیل بات کو یہ لوگ کس طرح مان رہے ہیں۔اسی طرح فرماتا ہے۔قُلْ هَلْ عِنْدَكُمْ مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوْهُ لَنَا١ؕ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَخْرُصُوْنَ۔قُلْ فَلِلّٰهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ (الانعام :۱۴۹۔۱۵۰) یعنی کفار سے کہہ دو کہ کیا تمہارے پاس اپنے دعاوی کی کوئی دلیل بھی ہے جسے تم ہمارے سامنے پیش کر سکو۔تمہارے پاس ہر گز کوئی دلیل نہیں بلکہ تم صرف وہم کی پیروی کرتے ہو اور ڈھکونسلے مار رہے ہو۔پھر فرماتا ہے کہ اے ہمارے رسول ان سے یہ بھی کہو کہ اللہ تو وہ باتیں اپنے بندوں سے منواتا ہے جن کے دلائل مکمل طورپر موجود ہوتے ہیں۔پس جو بات بلا ثبوت ہو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہو سکتی۔اسی طرح ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔قَدْ جَآ ئَ کُمْ بَصَآئِرُ مِنْ رَّبِّکُمْ فَمَنْ اَبْصَرَ فَلِنَفْسِہٖ وَمَنْ عَمِیَ فَعَلَیْھَا (الانعام :۱۰۵) یعنی تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے کھلے کھلے دلائل آچکے ہیں۔اب جو شخص ان دلائل کو دیکھے گا وہ فائدہ اٹھا لےگا اور جو نہیں دیکھے گا وہ نقصان اٹھا ئےگا۔ان آیات سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسی ایمان کو حقیقی ایمان قرار دیا ہے جس کی بصیرت پر نبیاد ہو اور جسے