تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 19
پڑھے گا تو اس کا دل بھی یہی محسوس کرے گا کہ قرآن کریم کو بھیجنے والا خدا اُسی طرح میرا خدا ہے جس طرح وہ ایک مسلمان کا خدا ہے۔اگر ایک ہندو قرآن کریم کو پڑھےگا تو اس کا دل بھی یہ محسوس کرے گا کہ اس کتاب کو بھیجنے والا خدا اسی طرح میرا خدا ہے جس طرح ایک مسلمان کا خدا ہے لیکن یہ بات کسی اور کتاب میں نظر نہیں آتی۔اسی طرح قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہےكُلًّا نُّمِدُّ هٰؤُلَآءِ وَ هٰؤُلَآءِ( بنی اسرائیل :۲۱) یعنی یہ خیال کر لینا کہ اللہ تعالیٰ صرف مسلمانوں کی مدد کرتا ہے۔غلط ہے بلکہ وہ اس قوم کی بھی مدد کرتا ہے اور اس قوم کی بھی مدد کرتا ہے یعنی ساری اقوام کی مدد کرتا ہے۔اور اس کی رحمت کسی خاص قوم سے مخصوص نہیں بلکہ خواہ کوئی مومن ہو یا غیر مومن جو بھی اللہ تعالیٰ کے قوانین پر عمل کرکے ان سے فائدہ اٹھائےگاترقی کر جائےگا۔چنانچہ دنیا میں ہمیں عملی رنگ میں یہی نظر آتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا فضل دنیوی فوائد اور ترقیات کے رنگ میں عیسائیوں کو بھی پہنچ رہا ہے ہندوؤں کو بھی پہنچ رہا ہے۔بُدھو ں کو بھی پہنچ رہا ہے۔پارسیوں کو بھی پہنچ رہا ہے۔یہودیوں کو بھی پہنچ رہا ہے۔اور مسلمانوں کو بھی پہنچ رہا ہے۔ہاں روحانی فیضان صرف اس قوم کو ملتا ہے جو روحانی طور پر اللہ تعالیٰ سے منسلک ہوتی ہے۔لیکن دنیوی کوشش جو بھی کرے اُس کو فائدہ پہنچ جاتا ہے خواہ وہ مومن ہو یا غیر مومن۔اس کے لئے مذہب اور ایمان کوئی شرط نہیں۔اسی طرح ویدوں کو پڑھا جائے تو ان کے مطالعہ سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ اُن کے نازل کرنےوالا خدا صرف ہندو قوم سے تعلق رکھتا ہے دوسری قوموں سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔بلکہ وید کے ماننے والوں میں تو ویدوں کو اس حد تک ہندوستان کی اونچی ذاتوں کے ساتھ مخصوص کیا گیا تھا کہ مَنُو جو تمام ہندو قوم آریہ اور سناتن دھرم کا تسلیم شدہ شارح قانون ہے لکھتا ہے کہ۔’’ شودر اگر وید کو سُن لے تو راجہ سیسہ اور لاکھ سے اُس کے کان بھر دے۔وید منتروں کا اچارن ( تلاوت ) کرنے پر اس کی زبان کٹوا دے۔اور اگر وید کو پڑھ لے تو اس کا جسم ہی کاٹ دے۔‘‘ ( گوتم سمرتی ادھیاے نمبر ۱۲) اسی طرح خود وید میں غیر قوموںکے لئے جو تعلیم موجود ہے۔و ہ نہایت ہی خطرناک ہے۔رِگ وید میں ویدک دھرم کے مخالفین کو کُتّا قرار دیتے ہوئے یہ بد دُعا کی گئی ہے کہ ’’ اے آگ دیوتا تُو ان برے کتّوں ( یعنی مخالفین ) کو دُور لے جاکر باندھ دے۔‘‘ اتھروید میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ غیر ویدک دھرمی لوگوں کو جکڑ کر ان کے گھروں کو لوٹ لینا چاہیے۔لکھا ہے کہ