تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 225
ہے کہ اِذَا ذُکِّرُوْا بِھَا أَکَبُّوْا عَلَیْھَا حِرْصًا عَلیٰ اِسْتِمَا عِھَا وَاَقْبَلُوْا عَلَی الْمُذَکِّرِ بِھَا بِاٰذَانٍ وَاعِیَۃٍ وَاَعْیُنٍ رَاعِیَۃٍ بِخِلَافِ غَیْرِ ھِمْ مِنَ الْمُنَافِقِیْنَ وَأشبَاھِھِمْ۔یعنی جب انہیں خدا تعالیٰ کی آیات یاد دلائی جائیں تو وہ اُن کے سُننے کے شوق میں اُن کی طرف جھکے چلے جاتے ہیں اور اُن نشانات کی طرف جن کے ذریعہ انہیں نصیحت کی جاتی ہے کان کھول کر اور اپنی آنکھوں کو کھلا رکھ کر توجہ کر تے ہیں۔بخلاف کافروں اور منافقوں کے طریق کے جو بہرے کان اور اندھی آنکھیں رکھتے ہیں یعنی نہ تو وہ کسی نصیحت کی کسی بات سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور نہ کوئی نشان اُن کی بند آنکھوں کو کھولنے کا موجب بنتا ہے۔یہ عباد الرحمٰن کی وہی خوبی ہے جو قرآن کریم کی اس آیت میں بیان کی گئی ہے کہ اِنَّمَا يُؤْمِنُ بِاٰيٰتِنَا الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِهَا خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ سَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ هُمْ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ۠ (السجدۃ :۱۶)یعنی ہماری آیتوں پر وہی لوگ سچا ایمان رکھتے ہیں کہ جب انہیں آیات الٰہیہ کے متعلق توجہ دلائی جائے تو وہ سجدہ کرتے ہوئے زمین پر گر جاتے ہیں اور اپنے رب کی تعریف اور تسبیح کرتے ہیں اور تکبر سے کام نہیں لیتے۔اس کے مقابلہ میں کفار کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَ اِذَا ذُكِّرُوْا لَا يَذْكُرُوْنَ۔وَ اِذَا رَاَوْا اٰيَةً يَّسْتَسْخِرُوْنَ ( الصافات :۱۴۔۱۵)کہ جب انہیں کوئی نصیحت کی جاتی ہے تو وہ نصیحت حاصل نہیں کرتے اور جب کوئی نشان دیکھتے ہیں تو اُس کی ہنسی اُڑا تے ہیں۔گویا وہ کانوں سے بھی بہرے ہوتے ہیں اور آنکھوں سے بھی اندھے ہوتے ہیں۔نہ نصیحت کی بات سن کر وہ کوئی فائدہ اٹھاتے ہیں اور نہ اللہ تعالیٰ کا نشان دیکھ کر کوئی عبرت حاصل کرتے ہیں۔غرض سچے مومنوں کی آنکھیں بھی کھلی ہوتی ہیں اور اُن کے کان بھی کھلے ہوتے ہیں۔وہ خدا تعالیٰ کی باتوں کو پوری توجہ سے سُنتے ہیں اور پھر اُن سے فائدہ اٹھانےکے لئے اُسی وقت عمل پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔مگر ان معنوں کے علاوہ قرآن کریم کی اس آیت میں اس طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے کہ عباد الرحمٰن کے سامنے جب اُن کے رب کی آیات بیان کی جاتی ہیں تو وہ انہیں اندھا دھند نہیں مانتے بلکہ سوچ سمجھ کر اور دلائل کے ساتھ مانتے ہیں۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ ایک اور مقام پر اسی حقیقت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے۔اَدْعُوْا اِلیٰ اللّٰہِ عَلیٰ بَصِیْرَۃٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِیْ ( یوسف :۱۰۹) یعنی اے ہمارے رسول ! اپنے منکروں سے کہہ دو کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف علی وجہ البصیرت بلاتا ہوں اور میں اور میرے متبع کسی بے دلیل بات کو نہیں مانتے بلکہ سوچ سمجھ کر اور دلائل قطعیہ کی بنا پر جو شک و شبہ سے بالا ہوتے ہیں ایمان لاتے ہیں۔اسی وجہ سے قرآن کریم نے بے دلیل ماننے والوں کو بار بار ملزم قرار دیا ہے جیسے سورۂ نجم میں فرماتا ہے۔اِنْ هِيَ اِلَّاۤ اَسْمَآءٌ سَمَّيْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ مَا تَهْوَى الْاَنْفُسُ ( النجم :۲۴) یعنی یہ تو صرف چند نام ہیں جو تم لوگوں نے اور تمہارے باپ دادوں نے خود ہی رکھ