تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 224
وَ الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ لَمْ يَخِرُّوْا عَلَيْهَا صُمًّا وَّ اور وہ لوگ بھی کہ اُن کے رب کی آیات جب انہیں یاد دلائی جائیں تو اُن سے بہروں اور اندھوں کا عُمْيَانًا۰۰۷۴ معاملہ نہیں کرتے۔حلّ لُغَات۔یَخِرُّوْا : یَخِرُّوْا خَرَّکے معنے ہوتے ہیں سَقَطَ سُقُوْطًا یُسْمَعُ مِنْہُ خَرِیْرٌ۔ایسے طورپر گرنا کہ اُس سے آوازسُنائی دے وَالْخَرِیْرُ یُقَالُ لِصَوْتِ الْمَآئِ وَالرِّیْحِ وَغَیْرِ ذٰلِکَ مِمَّا یَسْقُطُ مِنْ عُلُوٍّ ٍّ اور خریر اُس آواز کو کہتے ہیں جو کسی چیز کے اوپر سے گِرنے سے یا ہوا اور پانی کے چلنے سے پیدا ہو۔وَقَوْلُہٗ خَرُّوْا لَہٗ سُجَّدًا فَاسْتِعْمَالُ الْخَرِّ تَنْبِیْۃٌ عَلٰی اجْتِمَاعِ أَمْرَیْنِ۔اَلسُّقُوْطِ وَحُصُوْلِ الصَّوْتِ مِنْھُمْ بِالتَّسْبِیْحِ۔اور قرآن کریم میں جو خَرُّوْا سُجَّدًا کے الفاظ آتے ہیں تو اس سے دو باتوں کی طرف اشارہ ہے۔اوّل گِرنا دوم تسبیح کرنے کی وجہ سے آواز کا پیدا ہونا ( مفردات )اور خَرَّعَلَیْنَاقَوْمٌ مِنْ بَنِی فُلَانٍ کے معنے ہوتے ہیں ھَجَمُوْا عَلَیْنَا مِنْ مَکَانٍ لَایُعْرَفُ قوم نے کسی نامعلوم جگہ کی طرف سے حملہ کر دیا ہے ( اقرب) عُمْیَانًا : عُمْیَانٌ اَعْمٰی کی جمع ہے اور اَعْمٰی کے معنے اندھے کے ہیں ( اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے رحمٰن کے بندوں کی ایک یہ بھی علامت ہے کہ جب اُن کے سامنے اُن کے رب کی آیات کا ذکر کیا جائے تو وہ اُن کی طرف بہرے اور اندھے ہو کر توجہ نہیں کرتے بلکہ کان اور آنکھیں کھول کر آیاتِ الٰہیہ کو سُنتے اور روحانی بصیرت کے ساتھ اُن سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔اس آیت کے متعلق علامہ ابو حیان صاحبِ بحرِ محیط لکھتے ہیں کہ لَمْ یَخِرُّوْا میں جو نفی استعمال کی گئی ہے اُس کا تعلق صُمًّا وَّ عُمْیَانًا کے ساتھ ہے۔یَخِرُّوْا کے ساتھ نہیں ہے۔اور یہ طریق کلام عربی زبان میں عام مستعمل ہے مثلاً کہتے ہیں لَمْ یَخْرُجْ زَیْدٌ اِلیٰ الْحَرْبِ جَزْعًا یعنی زید جنگ کے لئے جزع فزع کرتے اور بُزدلی کا اظہار کرتے ہوئے نہیں نکلا۔اور مراد یہ ہوتی ہے کہ اِنَّمَا خَرَجَ جَرِیًّا وہ بڑی دلیری اور بہادری کے ساتھ نکلا ہے۔اسی طرح اس آیت کے یہ معنے نہیں کہ عباد الرحمٰن کو جب اللہ تعالیٰ کی آیات یاد دلائی جاتی ہیں تو وہ اُس کے حضور عاجزی اور مسکنت کے ساتھ نہیں گرتے بلکہ صرف بہرے اور اندھے ہونے کی حالت میں گرنے کی نفی کی گئی ہے اور مراد یہ