تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 216
سے یہ عہد لیا کرتے تھے کہ ہم جھوٹے اتہام نہیں باندھیں گی (ممتحنہ ع ۲) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عرب عورتوں میں اتہام لگانے کی عام عادت تھی پھر اُن کے جھوٹ بولنے کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ بچوں کو بھی اس کی عادت پڑ جاتی ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ جب ہماری ماں جھوٹ بولتی ہے تو ہم کیوں نہ بولیں۔اور پھر وہ ایسے ایسے جھوٹ بولتے ہیں کہ زمین و آسمان کے قلابے ملا دیتے ہیں ،کہتے ہیں دو دوست آپس میں اکٹھے ہوئے تو اُن میں سے ایک نے کہا کہ اپنے اپنے خاندان کی کوئی بات سُنائو۔اس پر ایک کہنے لگا کہ اب تو وہ بات نہیں رہی ہم تو بڑے رئیس ہوا کرتے تھے چنانچہ ہمارے نانا کا اتنا بڑا طویلہ تھا کہ جب قحط پڑا کرتا تو سارے شہر کے جانور اُس کے ایک کونے میں سما جاتے تھے۔دوسرا کہنے لگا ہمارے نانا جان کے پاس ایک ایسا بانس تھا کہ جب کبھی بارش نہ ہوتی تو وہ بانس سے بادلوں کو چھید کر بارش برسا لیتے۔دوسرے کو غصّہ آگیا کہنے لگا تمہارے نانا جان یہ بانس رکھا کہاں کرتے تھے وہ کہنے لگا تمہارے ناناجان کے طویلہ میں۔اور کہاں ؟ اب دیکھو یہ کتنا بڑا جھوٹ ہے جو اُن دونوں نے بولا اسی طرح میں نے ایک دفعہ قصّہ پڑھا کہ ایک انگریز کی لڑکی سکول میں داخل ہوئی۔ادھر سے ایک حلوائی کی لڑکی بھی داخل ہوئی۔ایک نے دوسری سے پوچھا کہ تم کون ہو۔تو حلوائی کی لڑکی کہنے لگی کہ میرے ابّا ڈپٹی ہیں۔دوسری کہنے لگی کہ میرے ابّا بڑے بینکر ہیں۔ساہو کار ہ کا م ہے اور بیسیوں ہمارے مکان ہیں۔ایک دفعہ اُس نے اپنی سہیلی کی دعوت کر دی۔اب بینکر کی لڑکی کے ہاں نوکر تو تھے نہیں۔اُس نے اپنے بھائی بہنوں کو نوکر بنایا۔پیسٹری رکھی۔بازار سے چائے کے برتن منگوائے اور جب ڈپٹی کی لڑکی آئی تو دونوں طرف سے باتیں ہونے لگیں۔ابھی یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ ایک ہمسائی آئی جب اس کی نظر دوسری لڑکی پر پڑی تو کہنے لگی یہ تو ہمارے انگریز بھائی کی لڑکی ہے۔حلوائی کی لڑکی کہنے لگی یہ تو بینکر کی لڑکی ہے۔وہ کہنے لگی بالکل غلط ہے یہ تو ہمارے محلہ کی فلاں انگریز کی لڑکی ہے اب یہ پاکھنڈ صرف اس لئے بنایا گیا کہ وہ اس کو امیر سمجھے اور یہ اُس کو۔مگر یاد رکھو سچ کے یہ معنے بھی نہیں کہ آنکھ نے جو کچھ دیکھا ہے وہ تم لوگوں میں بیان کرتے پھرو قرآن کریم نے بعض باتوں کے بیان کرنے سے انسان کو روکا ہے۔پس اگر کوئی شخص اُن اُمور کو بیان کرتا ہے تو وہ سچ نہیں بولتا بلکہ فتنہ و فساد پھیلاتا ہے۔سچ کے معنے صرف یہ ہیں کہ اگر تم کوئی بات کہو تو ضرور سچ کہو۔یہ نہیں کہ تم وہ بات ضرور کہو۔مثلاً اگر کوئی چور تمہارے پاس راز لینے کے لئے آتا ہے تو تم اس سے کہہ سکتے ہو کہ میں نہیں بتاتا۔جائو نکل جائو۔یہ جھوٹ نہیں ہو گا لیکن یہ ضرور جھوٹ ہوگا کہ تم اُسے اصل جگہ چھپا کر دوسری جگہ بتا دو۔اسی طرح اگر کوئی شخص کسی کا عیب دیکھتا اور اُسے ہر جگہ بیان کرتا پھرتا ہے تو یہ بھی سچ نہیں بلکہ اپنے بغض و کینہ کا اظہار اور غیبت ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دفعہ صحابہ ؓ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ کیا کسی کے متعلق سچی بات کا