تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 214
بولنے لگ جاتا ہے۔لیکن مومن کو یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ اس کے گرد و پیش کے لوگ کیا کہتے ہیں۔بلکہ اُسے یہ دیکھنا چاہیے کہ خدا کیا کہتا ہے۔آخر ایمان کے کچھ نہ کچھ معنے تو ہو نے چاہئیں۔جب ایک شخص ایمان کی وجہ سے ساری دُنیا سے لڑائی جھگڑا کرتا ہے فساد مول لیتا ہے تو اس کے کچھ معنے تو ہونے چاہئیں۔اور ایمان کے کم سے کم معنے یہ ہیں کہ ایک انسان یہ فیصلہ کرتا ہے کہ اُسے خدا دوسری چیزوں سے مقدم ہے۔اب جن چیزوں کو وہ مؤخر قرار دیتا ہے اگر اُن کو مقدم کرنے لگ جائے تو اس کا ایمان کہاں باقی رہا۔ایک طرف خدا کہتا ہے کہ سچ بولو اور دوسری طرف اس کے ساتھی کہتے ہیں کہ جھوٹ بولو۔چاہے وہ منہ سے کہیں یا عمل سے دنیا میں دونوں طریق ہوتے ہیں۔کبھی انسان دوسرے کو کہتا ہے کہ جھوٹ بولو اور کبھی دوسرا جھوٹ بولتا ہے تو اُسے منع نہیں کرتا۔اور اس طرح جھوٹ کی تائید کرنے والا بن جاتا ہے۔بہرحال خدا کا منشاء یہ ہے کہ ہم سچ بولیں۔اب اگر ہم جھوٹ بولیں اور سچائی کو چھپائیں تو ہماری نگاہ میں خدا کی کوئی قدر نہ رہی۔یایوں کہو کہ ہم خدا کی بادشاہت کو قائم کرنے کی بجائے شیطان کی بادشاہت کو دنیا میں قائم کرنے والے بن جائیں گے۔خدا کی بادشاہت تو اسی صورت میں قائم ہو سکتی ہے جب سچی گواہی دیتے وقت انسان نہ اپنے با پ سے ڈرے نہ اپنے بیٹے سے ڈرے نہ ماں سے ڈرے نہ بھائی سے ڈرے نہ دوست سے ڈرے اور نہ کسی اور رشتہ دار سے ڈرے۔ایک باپ اگر جھوٹ کی جرأت کرتا ہے تو اسی لئے کہ وہ سمجھتا ہے میر ا بیٹا میری تائید کرےگا یا میری بیوی میری تائید کر ے گی لیکن اگر عدالت میں معاملہ پیش ہو اور بیٹا کہے کہ یہ ہیں تو میرے باپ لیکن انہوں نے یہ بات کی ہے۔بیوی کہے کہ یہ ہیں تو میرے خاوند لیکن انہوں نے یہ بات کی ہے۔تو دوسرے ہی دن وہ جھوٹ چھوڑ دےگا۔وہ اگر جھوٹ بولتا ہے تو اس لئے کہ وہ سمجھتا ہے اس کے افعال پر پردہ پڑا رہےگا۔بھائی اس لئے جھوٹ بولتا ہے کہ دوسرا بھائی اُس کی ہاں میں ہاں ملا دےگا۔بیٹا اس لئے جھوٹ بولتا ہے کہ وہ سمجھتا ہے میرا باپ میری تائید کرے گا۔خاوند اس لئے جھوٹ بولتا ہے کہ وہ سمجھتا ہے میری بیوی میرے عیب کو چھپائےگی۔اور میری تصدیق کرےگی بیوی اگر جھوٹ بولتی ہے تو اس لئے کہ وہ سمجھتی ہے میرا خاوند میرا ساتھ دے گا۔لیکن اگر وہ سچے مسلمان ہوں تو باپ کے خلاف بیٹا گواہی دینے کے لئے کھڑا ہو جائےگا اور خاوند کے خلاف بیوی گواہی دینےکے لئے کھڑی ہو جائےگی اور وہ بالکل گھبرا جائےگا۔اور کہےگا ایسی حالت میں میرا جھوٹ بولنا بے فائدہ ہے اور اس روح کا اپنے اندر قائم کرنا کوئی بڑی بات نہیں۔اگر ہر بچہ ہر بوڑھا ہر جوان ہر مرد اور ہر عورت یہ عہد کرلے کہ میں نے سچ بولنا ہے چاہے اس کے نتیجہ میں مَیں کسی مقدمہ میں پھنس جائوں یا پھانسی پر چڑھ جائوں تو تھوڑے دنوں میں ہی تم اپنے اندر ایک عظیم الشان تغیر محسوس کرنے لگو گے۔یہ مت خیال کرو کہ سچ بولنے پر پھانسی