تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 211
وَ الَّذِيْنَ لَا يَشْهَدُوْنَ الزُّوْرَ١ۙ وَ اِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا اور وہ لوگ بھی (اللہ کے بندے ہیں )جو جھوٹی گواہیاں نہیں دیتے اور جب لغو باتوں کے پاس سے گذرتے ہیں تو كِرَامًا۰۰۷۳ بزرگانہ طورپر (بغیر اُن میں شامل ہونے کے )گذر جاتے ہیں۔حلّ لُغَات۔اَلزُّوْرُ۔اَلزُّوْرُ: اَلْکِذْبُ۔زور کے معنے جھوٹ کے ہیں۔نیز اس کے معنے ہیں الشِرْکُ بِا للّٰہِ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا۔مَجْلِسُ الْغِنَائِ : گانے کی مجلس مَایَعْبَدُمِنْ دُوْنِ اللّٰہِ۔اللہ کے سوا معبودانِ باطلہ جن کی عبادت کی جاتی ہے۔اَلْقُوَّۃُ۔طاقت۔لِیْنُ الْثَوْبِ : کپڑے کی نرمی۔اسی طرح زُور کے ایک معنے عقل کے بھی ہیں۔( اقرب) کِرَامٌ۔کِرَامٌ کَرِیْمٌ کی جمع ہے اور اَلْکَرِیْمُ کے معنے ہیں ذُوالْکَرَمِ : عزت والا قِیْلَ الْکَرِیْمُ قَدْ یُطْلَقُ عَلَی الْجَوَادِ الْکَثِیْرِ النَّفْعِ۔بعض ائمہ لُغت کہتے ہیں کہ کریم کا لفظ سخی اور نفع رساں شخص کے لئے بولا جاتا ہے۔وَقَدْ یُطْلَقُ مِنْ کُلِّ شَیْءٍ عَلیٰ اَحْسَنِہٖ کَمَا قِیْلَ اَلْکَرِیْمُ صِفَۃٌ مَا یُرْضَیْ وَیُحْمَدُ فِیْ بَا بِہٖ۔نیز کریم کا لفظ ہر اس وجودکے لئے بولا جاتا ہے جو کسی نوع میں سے اعلیٰ درجہ کا ہو۔اسی طرح کریم کا لفظ ہر اُس چیز کی حقیقت کے طور پر استعمال ہوتا ہے جو اپنی نوع میں اعلیٰ درجہ کی ہو اور ہر شخص کو پسند آئے۔چنانچہ کہتے ہیں رِزْقٌ کَرِیْمٌ یعنی اعلیٰ درجہ کا اورا تنا کثیر رزق جو پسند کیا جائے۔نیز کہتے ہیں قَوْلٌ کَرِیْمٌ اور اس سے یہ مراد ہوتی ہے کہ نرم اور عمدہ بات اسی طرح کہتے ہیں کِتَابٌ کَرِیْمٌ اور مطلب یہ ہوتا ہے کہ ایسی کتاب جو اپنے الفاظ ، معانی اور فوائد میں بے نظیر اور اعلیٰ درجہ کی ہو۔( اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے۔رحمٰن کے بندوں کی ایک یہ بھی علامت ہے کہ وہ زُور کے ساتھ گواہی نہیں دیتے زُور کے ایک معنے جیسا کہ حل لغات میں بتا یا جا چکا ہے جھوٹ کے بھی ہیں۔پس اس لحاظ سے لَایَشْھَدُوْنَ الزُّوْرَ کے معنے یہ ہیں کہ لَا یَشْھَدُوْنَ بِالزُّوْرِ یا لَا یَشْھَدُوْنَ شَھَادَۃَ الزُّوْرِ۔یعنی عباد الرحمٰن کی ایک یہ علامت ہے کہ وہ جھوٹی گواہی نہیں دیتے۔حقیقت یہ ہے کہ توحید کے بعد سب سے بڑی نیکی اور سب سے بڑا مشکل کام جو اس دنیا میں انسان کے