تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 210
بنانے کی کوشش کرے تاکہ آئندہ ہر قسم کے نیک کاموں میں وہ دلی شوق سے حصہ لے سکے۔یہ سات باتیں توبہ کے لئے ضروری ہیں۔جب تک یہ تمام شرائط نہ پائی جائیں کو ئی توبہ مکمل نہیں کہلا سکتی۔بعض لوگ توبہ کے مسٔلہ کے متعلق اپنی نادانی سے یہ خیال کر تے ہیں کہ توبہ کا دروازہ کھولنے سے بدی کا دروازہ بھی ساتھ ہی کھل جاتا ہے۔اور بجائے اخلاق میں ترقی کرنے کے انسان بد اخلاقی کے ارتکاب پر اور بھی دلیر ہو جاتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ میں جب چاہوں گا توبہ کر لوںگا اور خدا سے صلح کر لوںگا۔لیکن یہ خیال بالکل غلط اور توبہ کی حقیقت کو نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے۔’’جب چاہوں گا تو بہ کرلوںگا ‘‘ کا خیال کبھی ایک عقلمند انسان کے دل میں پیدا ہی نہیں ہو سکتا کیونکہ اُسے کیا معلوم ہے کہ میں کب مروںگا۔اگر اچانک موت آجائے تو توبہ کس وقت کرے گا۔علاوہ ازیں توبہ کی حقیقت کو یہ لوگ نہیں سمجھتے۔توبہ کوئی آسان امر نہیں اور نہ انسان کے اختیار میں ہے کہ وہ جب چاہے اپنی مرضی سے توبہ کرلے۔کیونکہ توبہ اُس عظیم الشان تغّیر کا نام ہے جو انسان کے قلب کے اندر پیدا ہو کر اس کو بالکل گداز کر دیتا اور اُس کی ماہیت کو ہی بدل ڈالتا ہے۔توبہ کے معنے جیسا کہ اوپر بتا یا جا چکا ہے اپنے پچھلے گناہوں پر شدید مذامت کا اظہار کرنے اور آئندہ کے لئے پورے طور پر خدا تعالیٰ سے صلح کرلینے اور اپنی اصلاح کا پختہ عہد کر لینے کے ہیں۔اب یہ حالت یکدم کس طرح پیدا ہو سکتی ہے۔یہ حالت تو ایک لمبی کوشش اور محنت کے نتیجہ میں پیدا ہوگی۔ہاں شاذو نادر کے طور پر یکدم بھی پیدا ہو سکتی ہے مگر جب بھی ایسا ہوگا کسی عظیم الشان تغّیر کی وجہ سے ہوگا جو آتش فشاں مادہ کی طرح اُس کی ہستی کو ہی بالکل بدل دے۔اور ایسے تغیرات بھی انسان کے اپنے اختیار میں نہیں ہیں۔پس توبہ کی وجہ سے کوئی شخص گناہ پر دلیر نہیں ہو سکتا۔بلکہ توبہ اصلاح کا حقیقی علاج اور مایوسی کو دُور کرنے کا ایک زبر دست ذریعہ ہے جو انسان کو کو شش اور ہمت پر اکساتا ہے۔اوریہ دھوکا کہ توبہ گناہ پر اکساتی ہے محض عربی زبان کی ناواقفیت اور اس خیال کے نتیجہ میں پیدا ہو ا ہے کہ توبہ اس امر کا نام ہے کہ انسان کہہ دے کہ یا اللہ میرے گناہ معاف کر حالانکہ گناہوں کی معافی طلب کرنے کا نام توبہ نہیں استغفار ہے۔توبہ گناہوں کی معافی طلب کرنے کو نہیں کہتے بلکہ گناہوں کی معافی سچی توبہ کا صحیح نتیجہ ہوتا ہے۔اور اس دروازہ کو کھول کر اسلام نے انسانی روح کو مایوسی کا شکار ہونے سے بچا لیا ہے بلکہ اُس کے لئے لامتناہی ترقیات کا دروازہ کھول دیا ہے کیونکہ جب انسان کو معلوم ہوجائے کہ اُس کے لئے ترقی کا دروازہ کھلا ہے اور وہ بھی پاکیزگی حاصل کر سکتا اور خدا تعالیٰ کا مقرب بن سکتا ہے تو وہ ہمت نہیں ہارتا اور اپنی اصلاح کی فکر میں لگا رہتا ہے اور آخر وہ اس مقصد میں کامیاب ہو جاتا ہے اور اُس کی روح ہر قسم کی سفلی آلائشوں سے پاک ہو کر عالم بالا کی طر ف پرواز کرنے لگتی ہے۔