تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 209
جہاں تم گورنر رہے تھے اور ایک ایک دروازہ پر پہنچ کر لوگوں سے اپنے گناہوں کی معافی مانگو اور جب سب لوگوں سے معافی لے چکو تو پھر میرے پاس آئو۔چنانچہ وہ اس علاقہ میں گئے اور انہوں نے گھر گھر پھر کر لوگوں سے معافیاں لینی شروع کیں۔پہلے تو لوگ سمجھے کہ یہ رسمی طور پر معافی مانگ رہے ہیں۔مگر جب انہوں نے دیکھا کہ شبلی ؒ معافی بھی مانگتے ہیں اور اپنے گناہوں پر ندامت کے آنسو بھی بہاتے ہیں تو انہوں نے سمجھ لیا کہ آج اس شخص کے دل پر بھی خدائے رحمٰن کی حکومت قائم ہوگئی ہے۔چنانچہ پھر تو یہ کیفیت ہوئی کہ جب وہ معافی مانگتے تو لوگ کہتے آپ ہمیں کیوں شرمندہ کرتے ہیں آپ تو ہمارے قابلِ احترام بزرگ ہیں۔غرض اس طرح انہوں نے گھر گھر پھر کر معافی حاصل کی اور پھر وہ حضرت جنید ؒ کے پاس آئے۔حضرت جنید ؒ نے جب دیکھا کہ انہوں نے سچے طور پر توبہ کر لی ہے تو انہوں نے اُس کی بیعت قبول کی اور پھر اُن کی تربیت میں انہوں نے اتنی بڑی ترقی کی کہ آج شبلی ؒ بھی اولیاء امّت میں سے سمجھے جاتے ہیں (تذکرۃ الاولیاء از سید رئیس احمد صفحہ ۳۴۔۳۵ ذکر ابو بکرشبلی)۔پس توبہ کی ایک ضروری شرط یہ ہے کہ جن لوگوں کو کوئی دکھ پہنچا یا ہو اور اُن کی رضا حاصل کرنا ممکن ہو اُن سے معافی طلب کی جائے۔مگر یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ خدا تعالیٰ بڑا ستار ہے وہ انسان کی بڑی بڑی برائیوں پر پردہ ڈالے رکھتا ہے۔اس لئے انسان کو چاہیے کہ اپنی ستاری آپ بھی کرے اور وہ گناہ جن کو خدا تعالیٰ نے چُھپا رکھا ہو اُن کو خود ظاہر نہ کرے مثلاً کسی کی چوری کی ہو تو اُسے یہ نہیں چاہیے کہ خود جاکر اُسے بتلا ئے کہ میں نے تمہاری چوری کی تھی۔ایسا کرنا بجائے خود گناہ ہوگا۔ہاں بعض گناہ ایسے ہوتے ہیں جو اَور لوگوں کو بھی معلوم ہوتے ہیں۔مثلاً اگر وہ کسی کو گالی دیتا ہے یا کسی کو پیٹنے لگ جاتا ہے تو اُس کا اَوروں کو بھی علم ہوتا ہے۔ایسے گناہوں کا ازالہ کرنا چاہیے اور جن لوگوں کو دُکھ پہنچایا گیا ہو اُن سے معافی طلب کرنی چاہیے۔پانچویں شرط یہ ہے کہ جن لوگوں کو اُس نے نقصان پہنچا یا ہو اُن سے مقدور بھر احسان کرے اور اگر کچھ نہیں کر سکتا تو اُن کے لئے دعا ہی کرے۔اولیا کرام نے بھی لکھا ہے کہ اگر کسی نے دوسرے کا مال ناجائز طورپر لیا ہو اور اُس کے اد ا کرنے کی طاقت نہ ہو تو وہ خدا تعالیٰ سے دُعا کرے کہ الٰہی مجھے تو اس کا مال دینے کی طاقت نہیں تو اپنے پاس سے ہی اسے دیدے اور اس کمی کو پورا فرما دے۔چھٹی شرط یہ ہے کہ وہ اپنے دل میں آئندہ گناہ نہ کرنے کا پختہ عہد کرے اور فیصلہ کرے کہ اب میں کوئی گناہ نہیں کروںگا۔ساتویں شرط یہ ہے کہ انسان اپنے نفس کو نیکی کی طرف رغبت دلانا شروع کر دے۔اور اپنے دل کو پاکیزہ