تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 206
کی حرمت ان الفاظ میں بیان فرمائی ہے کہ وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً١ؕ وَ سَآءَ سَبِيْلًا ( بنی اسرائیل:۳۳)یعنی تم زنا کے قریب بھی نہ جائو کیونکہ وہ یقیناً ایک کھلی بے حیائی اور نہایت بُرا راستہ ہے۔یعنی اوّل تو اس سے دل میں ناپاکی پیدا ہوتی ہے کیونکہ جرم کا احساس اور چوری کا خیال دل میں پید ا ہوتا ہے اور دوسرے یہ اُس مقصود کے حصول کے لئے جس کے لئے عورت اور مرد کے تعلقات قائم کئے جاتے ہیں ایک غلط راستہ ہے۔کیونکہ شہوت کی اصل غرض بقائے نسل کی غرض پورا کرنا ہے اور ناجائز تعلقات سے اصل غرض بر باد ہو جاتی ہے کیونکہ نسل محفوظ نہیں رہتی یا مشتبہ ہو جاتی ہے۔پس اس راستہ سے اصل مقصد حاصل نہیں ہو سکتا اور اگر کبھی حاصل بھی ہو جائے تو سیدھے راستہ کو ترک کر کے ٹیڑھا راستہ اختیار کرنا کو نسی عقلمندی ہے ہاں جو توبہ کریں گے اور رسمی ایمان کی بجائے حقیقی ایمان اپنے اندر پیدا کرلیں گے اور ایمان کے مناسبِ حال عمل کریں گے تو اللہ تعالیٰ اُن کی بد نامیوں کو نیک نامیوں سے اُن کی ذلت کو عزت سے اور اُن کے دکھوں کو انعام سے بدل دےگا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا اور رحم کرنےوا لا ہے۔اور جو شخص توبہ کرے اور اس کے مناسبِ حال عمل کرے تو اس کی یہ علامت نہیں کہ وہ صرف منہ سے توبہ کرے بلکہ اس کی علامت یہ ہے کہ اس شخص کا دل خدا تعالیٰ کی طرف جھکتا چلا جائے۔ان آیا ت میں اللہ تعالیٰ نے گناہوں کی مغفرت کے لئے توبہ پر زور دیا ہے اور ایمان اور عمل صالح کا حصول اس کے بغیر ناممکن قرار دیا ہے۔مگر دنیا میں بہت لوگ ہیں جو توبہ کی حقیقت سے ناواقف ہوتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ صرف منہ سے یہ کہہ دینے سے کہ ’’ میری توبہ ‘‘ توبہ مکمل ہو جاتی ہے۔حالانکہ اس کے لئے سات امور کا ہونا ضروری ہے اور جب تک وہ سارے کے سارے موجود نہ ہوں اُس وقت تک توبہ کبھی بھی صحیح معنوں میں توبہ نہیں کہلا سکتی چنانچہ توبہ کے لئے پہلی شرط تو یہ ہے کہ انسان اپنے گذشتہ گناہوں کو یاد کرکے اور اُن کو اپنے سامنے لاکر اس قدر نادم ہو کہ گویا پسینہ پسینہ ہو جائے۔دوسری شرط یہ ہے کہ پچھلے فرائض جس قدر رہ چکے ہیں اُن میں سے جن کو ادا کیا جاسکے اُن کو ادا کرنے کی کوشش کرے۔مثلاً اگر صاحبِ استطاعت ہونے کے باوجود اُس نے حج نہیں کیا تھا تو اَب حج کرلے یا اگر زکوٰۃ نہیں دی تھی تو ساری عمر کو جانے دے اُسی سال کی زکوٰۃ دے دے۔تیسری شرط یہ ہے کہ پچھلے گناہوں میں سے جن کا ازالہ ممکن ہو اُن کا ازالہ کرنے کی کوشش کرے۔مثلاًا گر کسی کی بھینس چُرا کر اُس نے اپنے گھر رکھی ہوئی ہو تو اُسے واپس کردے۔چوتھی شرط یہ ہے کہ جس شخص کو کوئی دکھ پہنچا یا ہو اُس کے دُکھ کا ازالہ کرنے کے علاوہ اُس سے معافی طلب کرے۔یہ ایک باریک رُوحانی مسئلہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے بندوں کے گناہوں کی معافی کے لئے یہ شرط رکھی ہے کہ اُن کے متعلق بندوں سے ہی معافی طلب کی جائے اور اگر وہ معاف کردیں تو پھر