تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 199 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 199

دفعہ اللہ اکبر کہہ لیا کرو۔(بخاری کتاب النفقات باب عمل المرأۃ فی بیت زوجھا ) یہ واقعہ جو رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے اُس دَور سے تعلق رکھتا ہے جبکہ آپ بادشاہ بن چکے تھے بتاتا ہے کہ گو آپ اپنی بیٹی کو جنگی قیدی عطا فرما سکتے تھے کیونکہ آپ نے بہر حال اُن کو صحابہ ؓ میں ہی تقسیم کرنا تھا اور حضرت علی ؓ کا ویسا ہی حق تھا جیسے باقی صحابہ ؓ کا مگرآپ نے یہ پسند نہ فرمایا کہ کوئی جنگی قیدی اپنے خاندان میں تقسیم کریں تا ایسا نہ ہو کہ آنے والے بادشاہ آپ کے اس نمونہ سے غلط نتائج اخذ کرکے دوسروں کے اموال اپنے لئے جائز سمجھ لیں۔بیشک وہ اموال جن میں خدا تعالیٰ نے آپ کا اور آپ کے رشتہ داروں کا حق مقرر فرمایا تھا اُن میں سے آپ ضرورت پر خود بھی خرچ فرما لیتے تھے اور اپنے متعلقین کو بھی دے دیتے تھے۔مگر جب تک کوئی چیز آپ کے حصہ میں نہ آجائے اُس وقت تک باوجود ایک بااقتدار بادشاہ ہونے کے ایک جَوکے دانہ کے برابر بھی کوئی چیز آپ اپنے عزیز سے عزیز رشتہ دار کو بھی نہیں دیتے تھے۔اور ایک لمحہ کے لئے بھی یہ پسند نہیں فرماتے تھے کہ قومی روپیہ ضائع ہو یا کسی ایسی جگہ خرچ ہو جو ناجائز ہو۔ایک دفعہ صدقہ کی کچھ کھجوریں آئیں اور حضرت حسن ؓ اور حسین ؓ جو اُس وقت چھوٹے بچے تھے اُن کھجوروں سے کھیلنے لگے۔کھیلتے کھیلتے اُن میں سے کسی نے ایک کھجور اپنے منہ میں ڈال لی۔اچانک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی نظر جا پڑی۔آپ نے فورًا اُس کے منہ سے انگلی ڈال کر کھجور نکال لی اور فرمایا تمہیں معلوم نہیں کہ یہ غرباء کا حق ہے۔آلِ محمد ؐ غرباء کا مال نہیں کھایا کرتی۔(بخاری کتاب الزکاۃ باب اخذ صدقۃ التمر عند صرام النخل)۔اس سے اندازہ لگا یا جا سکتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم قومی اموال کی کس سختی کے ساتھ محافظت فرمایا کرتے تھے اور اُس کے خرچ میں کتنی احتیاط ملحوظ رکھتے تھے۔یہی کیفیت خلفاء راشدین کے زمانہ میں بھی جاری رہی اور انہوں نے بھی قیصرو کسریٰ سے زیادہ طاقت رکھنے کے باوجود سرکاری اموال کو کبھی بے جا خرچ نہیں کیا۔بلکہ ایک ایک پیسہ اور ایک ایک پائی کی حفاظت کی اور اگر کسی جگہ انہوں نے روپیہ کا بے جا خرچ دیکھا تو بڑی سختی سے اُس کو روکا اور افسروں کو معزول کر نے سے بھی دریغ نہیں کیا۔تاریخوں میں لکھا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب اپنے زمانہ ٔ خلافت میں بیت المقدس تشریف لے گئے تو آپ نے دیکھا کہ بعض صحابہ ؓ نے ریشمی کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔ریشمی کپڑوں سے مراد وہ کپڑے ہیں جن میں کسی قدر ریشم ہوتا ہے ورنہ خالص ریشم کے کپڑے تو سوائے کسی بیماری کے مردوں کو پہننے ممنوع ہیں۔آپ اُن لوگوں پر سخت ناراض ہوئے اور فرمایا کہ کیا تم اب ایسے آسائش پسند ہو گئے ہو کہ ریشمی کپڑے پہنتے ہو۔اس پر اُن میں سے