تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 198
تو اگر کسی کے پاس کروڑوں روپیہ بھی ہو تو وہ سب کچھ خرچ کرکے کنگال اور نادار بن سکتا ہے۔قرآن کریم نے وَتَاْکُلُوْنَ التُّرَاثَ اَکْلًا لَمَّا (الفجر :۲۰) میں کفّار کو اُن کے اس نقص کی طرف توجہ دلائی ہے کہ تمہیں اپنے باپ دادا سے مال ملا۔مگر بجائے اس کے کہ تم اُسے ترقی دیتے تم نے اس دولت کو اپنے ذاتی عیش و آرام کے لئے تباہ کر نا شروع کردیا جس کی وجہ سے تمہاری عملی قوتیں بیکار ہو گئیں اور تم تنزل اور انحطاط کا شکار ہو گئے۔حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ فرما یا کرتے تھے کہ روپیہ کمانا آسان ہوتا ہے مگر اُسے خرچ کرنا بہت مشکل ہوتاہے اور حقیقتًا یہ بالکل درست ہے۔دنیا میں بہت لوگ ہیں جو روپیہ کماتے ہیں لیکن چونکہ انہیں خرچ کرنا نہیں آتا اس لئے وہ ہمیشہ مالی مشکلات میں مبتلا رہتے ہیں۔اور بہت ہیں جو کم کماتے ہیں مگر چونکہ انہیں روپیہ خرچ کرنا آتا ہے۔اس لئے وہ تھوڑے روپیہ میں بھی آسانی سے اپنا گذارہ کر لیتے ہیں۔بہر حال اسلام نے عبا دالرحمٰن کی یہ علامت بیان فرمائی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ انہیں زمین پر غلبہ عطا فرماتا ہے تو وہ خزائن الارض کی تقسیم میں کسی قسم کے اسراف یا بخل سے کام نہیں لیتے۔یعنی نہ تو قومی روپیہ کو اس طرف غلق میں بند کرکے رکھتے ہیں کہ قومی و ملکی ترقیات میں روک واقعہ ہو جائے اور عوام کو شکایت کا موقعہ پیدا ہو جائے۔ہم دیکھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی عملی زندگی میں ایسا ہی نمونہ دکھایا۔آپ ؐ کو اللہ تعالیٰ نے بادشاہ بھی بنایا اور لاکھوں روپیہ کے اموال آپ کے قبضہ میں آئے۔مگر آپ نے کبھی اُن کے خرچ کرنے میں اسراف سے کام نہیں لیا اور نہ ہی کسی جگہ بخل سے کام لے کر حقدار کو اس کے حق سے محروم کیا۔آپ قومی اموال کی تقسیم اور اُن کے خرچ کرنے میں اس قدر محتاط واقعہ ہوئے تھے کہ حدیثوں میں آتا ہے کہ ایک دفعہ بعض جنگی قیدی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو حضرت فاطمہؓ کو ا س کا علم ہوا تو وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لے گئیں مگر انہوں نے آپ کو گھر پر نہ پایا۔چونکہ وہ اُس وقت زیادہ انتظار نہیں کر سکتی تھیں اس لئے انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں تو میری طرف سے آپ کو عرض کیا جائے کہ چکی پیستے پیستے میرے ہاتھوںپر آبلے اُٹھ آئے ہیں۔اگر جنگی قیدیوں میں سے کوئی قیدی مجھے بھی عطا فرما دیا جائے اور وہ آٹا پیس دیا کرے تو مجھے سہولت ہو جائے گی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لائے تو حضرت عائشہ ؓ نے یہ تمام واقعہ آپ کی خدمت میں عرض کر دیا۔رات کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیٹی کے ہاں تشریف لے گئے اور فرمایا بیٹی کیا میں تمہیں ایک ایسی بات نہ بتائوں جو اُس چیز سے جو آج تم نے مانگی ہے بہت بہتر اور بڑی برکت والی ہے۔انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! ضرور بتائیے آپ نے فرمایا۔جب تم سونے لگو تو ۳۳ دفعہ سبحان اللہ۔۳۳ دفعہ الحمد اللہ اور ۳۴