تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 195 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 195

نہیں مل سکتا۔پس ضروری ہے کہ اس کی سزا ایک دن ختم ہو تاکہ اس کی نیکیوں کی اُسے جزا دی جائے۔ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ اسی مضمون کو ان الفاظ میں بیان فرماتا ہے کہ اَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُہٗ فَاُمُّہٗ ھَاوِیَۃٌ ( القارعۃ :۹۔۱۰) یعنی جس کی نیکیاں کم ہوںگی اُس کی ماں ہاویہ ہوگی یعنی جس طرح بچہ رحم مادر میں ایک معّین عرصہ تک رہتا ہے اور پھر اُس کے پیٹ سے باہر آجاتا ہے۔اسی طرح جب دوزخیوں کی سزا کی میعاد ختم ہو جائے گی تو اللہ تعالیٰ انہیں باہر لے آئےگا۔اور اپنی جنّت میں داخل کر دے گا۔اسی طرح فرماتا ہے۔فَاَمَّا الَّذِيْنَ شَقُوْا فَفِي النَّارِ لَهُمْ فِيْهَا زَفِيْرٌ وَّ شَهِيْقٌ۔خٰلِدِيْنَ فِيْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيْدُ۔وَ اَمَّا الَّذِيْنَ سُعِدُوْا فَفِي الْجَنَّةِ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ١ؕ عَطَآءً غَيْرَ مَجْذُوْذٍ( ھود:۱۰۷ تا ۱۰۹)یعنی جو لوگ بدبخت ثابت ہو ں گے وہ آگ میں داخل کئے جائیں گے۔اُس میں کسی وقت تو اُن کے غم سے لمبے لمبے سانس نکل رہے ہوںگے اور کسی وقت رو رَو کر ہچکی بندھ جائے گی۔وہ اُس میں اُس وقت تک رہتے چلے جائیں گے جب تک کہ آسمان اور زمین قائم ہیں سوائے اس کے کہ تیرا رب کچھ اور ارادہ کرے اور تیرا رب اپنے ارادہ کو پورا کرنے والا ہے۔اور جو لوگ خوش نصیب ہوں گے وہ جنت میں داخل کئے جائیں گے۔اور وہ اُس وقت تک اُس میں رہتے چلے جائیںگے جب تک کہ آسمان اور زمین قائم ہیں۔سوائے اس کے کہ تیرا رب کچھ اور چاہے مگریہ ایسی عطا ہو گی جو کبھی کاٹی نہیں جائےگی۔اس آیت میں جہنمیوں کے متعلق تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم اُن کو جہنم سے نکا ل سکتے ہیں اور ہمارے ارادہ میں کون حائل ہو سکتا ہے لیکن مومنوں کے متعلق فرماتا ہے کہ ہم اگر چاہیں تو اُن کو بھی جنت سے نکا ل سکتے ہیں مگر ہم نے یہی چاہا ہے کہ اُن کے انعام کو کبھی ختم نہ کیا جائے۔اس مقابلہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دوزخ کا عذاب ایک دن منقطع ہونے والا ہے کیونکہ دوزخیوں کو جہنم سے نکلنے کی امیددلائی گئی ہے۔لیکن جنتیوں کو کہا گیا ہے کہ انہیں غیر مقطوع یعنی نہ ختم ہونے والے انعام سے نوازا جائےگا۔پھر فرماتا ہےعَذَابِيْۤ اُصِيْبُ بِهٖ مَنْ اَشَآءُ١ۚ وَ رَحْمَتِيْ وَ سِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ( الاعراف :۱۵۷) میں اپنا عذاب جس کو چاہتا ہوں پہنچاتا ہوں مگر میری رحمت ہر ایک چیز پر حاوی ہے اور جب اس کی رحمت ہر ایک چیز پر حاوی ہے تو ضروری ہے کہ دوزخ بھی ایک د ن اُس کی رحمت کے سایہ تلے آجائے اور دوزخیوں کو اُس میں سے نکال کر جنت میں داخل کر دیا جائے۔حدیثوں میں بھی آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یَاْتِیْ عَلیٰ جَھَنَّمَ زَمَانٌ لَیْسَ فِیْھَا اَحَدٌ