تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 194
ہ محض اپنے فضل سے ہمیں عطا فرمائی ہے وہ ہمیشہ قائم رہے اور کوئی ابلیس سانپ کی شکل اختیار کرکے ہماری ایڑی کو نہ کاٹ لے۔اگر مسلمان اپنے غلبہ کے اوقات میں اس قرآنی دُعا کو ہمیشہ یاد رکھتے اور ہر کامیابی کے حصول پر قومی تنزل کے خطرات سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے تو اللہ تعالیٰ اُن پر دائمی طور پر اپنا فضل نازل کرتا اور ہمیشہ اُن کا قدم ترقی کے میدان میں آگے ہی آگے بڑھتا رہتا۔مگر اِن معنوں کے علاوہ اس آیت میں اُخروی جہنم کے عذاب سے بھی بچنے کی دُعا سکھلائی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ جہنم عارضی رہائش کے لحاظ سے بھی بہت بُرا ٹھکانا ہے اور مستقل رہائش کے لحاظ سے بھی بہت برا ٹھکانہ ہے۔ان الفاظ میں قرآن کریم کی یہ تعلیم بیان کی گئی ہے کہ دوزخ غیر محدود نہیں ہوگی کیونکہ دوزخ کو مستقر قرار دیا گیا ہے جس کے معنے عارضی قرار گاہ کے ہوتے ہیں او رچونکہ اس جگہ یہ کہا گیا ہے کہ دوزخ خواہ عارضی ہو یا مستقل بڑی تکلیف دہ جگہ ہے اس لئے ان الفاظ میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ دوزخ کا تھوڑا عذاب بھی سزا دینےکے لئے کافی ہے اس لئے کوئی وجہ نہیں کہ اُسے لمبا کیا جائے یا اُسے مستقل بنا دیا جائے۔قرآن کریم نے اس مضمون کو بعض اور مقامات پر بھی نہایت واضح الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔مثلاً فرماتا ہے وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ ( الذاریات :۵۷) یعنی میں نے جن و انس کو صرف اس غرض کے لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میرے عبد بن جائیں۔اور جب انسان کو پیدا ہی اس غرض کے لئے کیا گیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا عبد بنے تو اگر وہ دائمی طور پر دوزخ میں رکھا جائے تو وہ اس غرض کو پورا ہی نہیں کر سکتا اور پیدائشِ عالم کا مقصد بالکل فوت ہو جاتا ہے۔اس مضمون کی مزید تشریح اس آیت سے ہوتی ہے کہ فَادْخُلِیْ فِیْ عِبَادِیْ وَادْخُلِیْ جَنَّتِیْ ( الفجر :۳۰،۳۱) یعنی اللہ تعالیٰ نفسِ مطمٔنہ رکھنے والوں سے فرمائےگا کہ آئو اور میرے بندوں میں شامل ہو جائو۔آئو اور میری جنّت میں داخل ہو جائو اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے حقیقی عبدکا مقام جنت ہے۔اور جب ہر انسان عبد بننےکے لئے پیدا کیا گیا ہے تو لازمًا ہر انسان کے متعلق ہمیں تسلیم کرنا پڑےگا کہ وہ جنت میں جائےگا۔پس دوزخ ایک عارضی قرار گاہ ہے مستقل مقام نہیں۔پھر فرماتا ہے وَ نَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْـًٔا١ؕ وَ اِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَيْنَا بِهَا١ؕ وَ كَفٰى بِنَا حٰسِبِيْنَ ( انبیاء :۴۸) یعنی قیامت کے دن ہم ایسے تول کے سامان پیدا کر یں گے کہ جن کی وجہ سے کسی جان پر ذرا سا بھی ظلم نہیں کیاجائے گا اور اگر کسی نے رائی کے دانہ کے برابر بھی کوئی نیکی یا بدی کی ہوگی تو ہم اُس کو بھی لے آئیں گے۔اور ہم حساب لینے میں کافی ہیں۔اب اگر کوئی شخص بدیوں کی کثرت کی وجہ سے جہنم میں چلا جائے اور پھر ابدالاباد تک اُسی میں رہے تو اُسے اپنی نیکیوں کا بدلہ