تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 191
کے حضور سجدہ و قیام کرتے ہوئے گذریں گی۔چنانچہ جب تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ہمیں مسلمانوں کی اس امتیازی خصوصیت کا بھی نہایت واضح طور پر علم حاصل ہوتا ہے۔تاریخوں میں لکھا ہے کہ جب روم کے ساتھ مسلمانوں کی لڑائی ہوئی تو رومی جرنیل نے اپنا ایک وفد مسلمانوں کے حالات کا جائزہ لینےکے لئے بھیجا اور اُس نے کہا کہ تم مسلمانوں کے لشکر کو جا کر دیکھو اور پھر واپس آکر بتا ئو کہ اُن کی کیاکیفیت ہے وہ وفد اسلامی لشکر کا جائز ہ لے کر واپس گیا تو اُس نے کہا ہم مسلمانوں کو دیکھ آئے ہیں۔وہ ہمارے مقابلہ میں بہت تھوڑے ہیں مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ کوئی جن ہیں کیونکہ ہم نے دیکھا کہ وہ دن کو لڑتے ہیں اور رات کو تہجد پڑھنےکے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ہمارے سپاہی جو دن بھر کے تھکے ماندے ہو تے ہیں وہ تو رات کو شرابیں پیتے اور ناچ گانے میں مشغول ہو جاتے ہیں اور جب اِن کا موں سے فارغ ہوتے ہیں تو آرام سے سو جاتے ہیں۔مگر وہ لوگ کوئی عجیب مخلوق ہیں کہ دن کولڑتے ہیں اور راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر خدا تعالیٰ کی عبادت کرتے اور اُس کا ذکر کرتے ہیں (البدایة والنھایة الجزء وقعة الیرموک)۔ایسے لوگوں سے لڑنا بے فائدہ ہے۔چنانچہ دیکھ لو۔اس ذکر الٰہی کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ بھی آسمان سے اُن کی مددکے لئے اُترا اور اُس نے انہیں بڑی بڑی طاقتور حکومتوں پر غالب کر دیا۔عرب کی ساری آبادی ایک لاکھ اسّی ہزار تھی مگر انہوں نے روم جیسے ملک سے ٹکر لے لی جس کی بیس کروڑ آبادی تھی۔پھر انہوں نے کسریٰ کے ملک پر حملہ کر دیا اور اس کی آبادی بھی بیس تیس کروڑ تھی۔گویا پچاس کروڑ کی آبادی رکھنے والے ممالک پر ایک لاکھ اسی ہزار کی آبادی رکھنے والےملک کا ایک حصّہ حملہ آور ہوا۔اور پھر یہ ملک اتنے طاقتور تھے کہ ہندوستان بھی اُن کے ماتحت تھا۔چین بھی اُن کے ماتحت تھا۔اسی طرح ٹرکی۔آرمینیا۔عراق او ر عرب کے اوپر کے ممالک یعنی فلسطین اور مصر وغیرہ بھی اُن کے ماتحت تھے۔مگر باوجود اتنی کثرت کے مٹھی بھر مسلمان نکلے تو انہوں نے ان لوگوں کا صفایا کر دیا اور بارہ سال کے عرصہ میں اُن کی فوجیں قسطنطنیہ کی دیواروں سے جا ٹکرائیں۔یہ فتوحات جو مسلمانوں کو حاصل ہوئیں صرف ذکر الٰہی اوريَبِيْتُوْنَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَّ قِيَامًا کا نتیجہ تھیں۔لیکن جب مسلمان بگڑ گئے اور انہوں نے ذکر الٰہی میں اپنی راتیں بسر کرنے کی بجائے رنگ رلیوں اور ناچ گانوں میں راتیں بسر کرنی شروع کر دیں۔جب انہوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ اسحاق موسوی بڑا اچھا گانے والا ہے۔فلاں کنچنی خوب ناچتی ہے تو اللہ تعالیٰ نے اُن کی تباہی کے لئے ہلاکو خاں کو بغداد پر مسلّط کر دیا اور اُس نے ایک دن میں اٹھارہ لاکھ مسلمانوں کو قتل کر دیا اور شاہی خاندان کی کوئی عورت ایسی نہ چھوڑی جس کے ساتھ بدکاری نہ کی گئی ہو۔اُس وقت مسلمان ایک بزرگ کے پاس گئے اور انہیں کہا کہ دُعا کریں بغداد تباہی سے بچ جائے۔انہوں نے کہا میں کیا دُعاکروں میں تو جب بھی ہاتھ اٹھاتا