تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 188
عَلَی الْاَرْضِ فرمایا ہے۔اگر صرف چلنے کا ذکر ہوتاتو یَمْشُوْنَ فِیْ الْاَرْضِ کافی تھا مگر اس جگہ یَمْشُوْنَ عَلَی الْاَرْضِ کہہ کر عَلیٰ کو استعلاء کے معنوں میں استعمال کیا گیا ہے اور اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ انہیں دنیا پر غلبہ حاصل ہو گا اور وہ پورے اقتدار کے ساتھ ایک غالب اور فاتح قوم کے افراد کی طرح چلیں گے گویا اُن کا چلنا عام لوگوں کی طرح نہیں ہوگا بلکہ اقتدار اور غلبہ اُن کے ساتھ ہوگا اور وہ ایسے مقام پر کھڑے ہوںگے کہ لوگوں کو اپنی طاقت سے کچل سکیں۔یہ ایسا ہی فقرہ ہے جیسے حضرت سلیمان علیہ السلام کے متعلق ایک نملہ نے کہا کہيٰۤاَيُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوْا مَسٰكِنَكُمْ١ۚ لَا يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمٰنُ وَ جُنُوْدُهٗ١ۙ وَ هُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ( النمل :۱۹)یعنی اے نملہ قوم سے تعلق رکھنے والو۔اپنے اپنے گھروں میں چلے جائو۔ایسا نہ ہوکہ سلیمان ؑ اور اُس کے طوفانی لشکر تمہارے حالات سے بے خبر ہونے کی وجہ سے تمہیں اپنے پیروں کے نیچے مسل دیں۔اگر خالی چلنے کا یہاں ذکر ہوتا تو یَمْشُوْنَ فِیْ الْاَرْضِ کہنا کافی تھا۔لیکن عَلیٰ کا صلہ لاکر ایک دوسرا مفہوم پیدا کر دیا گیا ہے کہ وہ ایسی طاقت رکھیں گے کہ دنیا کو اپنے پائوں کے نیچے روند سکیں۔مگر جس طرح حضرت سلیمان علیہ السلام کے متعلق ذکر آتا ہے کہ وہ نہایت احتیاط کے ساتھ چلتے تھے تا ایسا نہ ہو کہ کوئی قوم اُن کے ذریعہ کچلی جائے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ ان آیات میں مسلمانوں کے متعلق بیان فرماتا ہے کہ جب وہ دنیا پر غالب آئیں گے تو اس امر کی خاص احتیاط رکھیں گے کہ کوئی قوم اُن کے پائوں کے نیچے روندی نہ جائے۔گویا اُن کے اندر یہ طاقت تو ہوگی کہ وہ دنیا کو روند ڈالیں مگر چونکہ وہ نیک اور پار سا ہوںگے اس لئے يَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا کا مصداق ہوںگے۔یعنی وہ اس طرز پر چلیں گے کہ ہر وقت یہ امر اُن کے مدنظر رہےگا کہ کسی فرد یا قوم کو اُن کے ہاتھوں کو ئی ناجائز تکلیف نہ پہنچے۔اس کے بعد وَ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا کہہ کر اس طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ حاکم انسان دوسرے کو دکھ دے سکتا ہے۔اور بالعموم حکام کی عادت میں یہ بات داخل ہوتی ہے کہ جب اُن کے سامنے کوئی گُستاخانہ کلام کرے تو وہ کہتے ہیں ہم تمہاری اچھی طرح خبر لیں گے اور تمہیں بتائیں گے کہ تمہاری اس گستاخی کی کیا سزا ہے۔مگر مسلمانوں کی یہ حالت ہوگی کہ حکومت اور طاقت اور غلبہ اور رعب کے باوجود جب اُن سے کوئی خطابِ جہالت کرے گا تو وہ مسکراتے ہوئے کہہ دیں گے کہ ہم کچھ بُرا نہیں مناتے۔حدیثوں میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دفعہ ایک یہودی آیا اور اُس نے آپ سے کسی قرض کا نہایت سختی سے مطالبہ کیا۔صحابہ ؓ یہ حالت دیکھ کر غصّہ سے بیتاب ہوگئے اور انہوں نے اپنی تلواریں سونت لیں مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا۔جانے دو جس کا حق ہوتا ہے وہ دوسرے پر سختی کر ہی