تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 171
فَسْـَٔلْ بِهٖ خَبِيْرًا میں ہٖ کی ضمیر لفظ رحمٰن کی طرف جاتی ہے اور اس کے معنے یہ ہیں کہ تو رحمٰن سے سوال کر وہ رحمٰن جو بڑا خبیر ہے اور تمام حقائق کو جاننے والا ہے یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کے اس وسیع نظا مِ کائنات کو دیکھ کر بھی جو ساری دنیا میں جاری ہے اور خدا تعالیٰ کے رحمٰن ہونے پر شاہد ہے یہ بات نہیں سمجھتے کہ جس طرح اُس نے مادی دنیا میں اپنی صفتِ رحمانیت کا اتنا بڑ اکرشمہ دکھا یا ہے اسی طرح اُس نے روحانی دنیا میں بھی اپنے بندوں کی اصلاح کے لئے کوئی انتظام جاری کیا ہوگا۔اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت تم پر منکشف نہیں ہوتی تو پھر تم اُسی خدا سے پوچھو جو خبیر ہے یعنی اس کے دروازہ کو کھٹکھٹا ئو اور اس کے حضور گڑ گڑائو اور دُعائیں کرو۔وہ تمہارے حالِ زار پر رحم کرےگا اور تم پر اپنے فضل سے اصل حقیقت کا کسی نہ کسی رنگ میں انکشاف فرما دے گا لیکن بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس جگہفَسْـَٔلْ بِهٖ میں ب عن کے معنوں میں استعمال ہوئی ہے جیسا کہ قرآن کریم کی آیت سَاَلَ سَآئِلٌ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ (المعارج:۲) میں ب عن کے معنوں میں استعمال کی گئی ہے اورفَسْـَٔلْ بِهٖ خَبِيْرًا کے وہ یہ معنے لیتے ہیں کہ فَسْـَٔلْ عَنْہُ خَبِيْرًا۔یعنی اس کے بارہ میں خبیر سے دریافت کر۔انہوں نے کہا ہے کہ چونکہ اس سے پہلےخَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ اور إِسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ کا ذکر آتا ہے اور زمین و آسمان کی پیدائش اور استواءعلی العرش کی تفاصیل اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا اس لئے فَسْـَٔلْ بِهٖ خَبِيْرًا کے یہ معنے ہیں کہ ان امور کی تفاصیل کے بارہ میں اللہ تعالیٰ سے ہی دریافت کرو اس کے سوا اِن باتوں کو اَور کوئی نہیں جانتا۔لیکن بعض نے کہا ہے کہ اس جگہ خبیرسے ایسا شخص مراد ہے جو اللہ تعالیٰ کے اسماء اور اُس کی صفات کا پورا پورا علم رکھنے والا ہو اور انہوں نے اس سے جبرائیل اور اہل کتاب اور علماء وغیرہ مراد لئے ہیں۔میرے نزدیک اگر عن کے معنوں کو تسلیم کرتے ہوئے اس جگہ خبیر سے کوئی اور شخص مراد لیا جائے تو پھر خبیر سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مراد ہیں۔جن کو خدا تعالیٰ نے اپنی صفاتِ کاملہ کا وحی کے ذریعہ سے علم دیا تھا۔چونکہ کفارِ مکہ کلام الٰہی کے منکر تھے اور کلامِ الٰہی وہ نعمت ہے جو بغیر کسی عمل کے ملتی ہے اور صفتِ رحمٰن کے تابع ہے اس لئے وہ خدا تعالیٰ کو ان معنوں میں رحمٰن تسلیم نہیں کرتے تھے جن معنوں میں اسلام اسےرحمٰن قرار دیتا ہے اور چونکہ صفتِ رحمٰن اُن کے عقائد کے ردّ میں استعمال کی جاتی تھی اور انہیں بار بار کہا جاتا تھا کہ تمہیں خدا نے پتھروں کا مالک بنایا تھا۔تمہیں خدا نے کائنات ِ عالم کے ذرّہ ذرّہ پر حکمران بنایا تھا اور یہ تمام چیزیں وہ ہیں جو خدا تعالیٰ نے محض اپنی صفتِ رحمانیت کے ماتحت تمہارے لئے مہیا کیں مگر تم نے انہی پتھر وں سے بنے ہوئے بتوں کے آگے اپنے سر جھکانے شروع کر دئیے اور خدا تعالیٰ کے رحمٰن ہونے کا انکار کر دیا اس لئے طبعی طور پر اُن کے دلوں میں یہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ رحمٰن کیا چیز ہے۔سو اللہ تعالیٰ نے انہیں نصیحت فرمائی کہ اگر تم خدا تعالیٰ کے ان عظیم الشان احسانات سے