تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 170 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 170

انسان کس طرح معلوم کر سکتا ہے۔جب ایک سچائی ثابت ہو جائے تو پھر اُس کا مان لینا ہی انسان کا کام ہے۔اُس کا یہ حق نہیں کہ وہ اس امر کا مطالبہ کرے کہ مجھے یہ بھی سمجھا یا جائے کہ ربوبیت اور رحمانیت اور رحیمیت اور مالکیت کہاں سے پیدا ہو ئی اور کس طرح پیدا ہوئی ؟ غرض عرش خدا تعالیٰ کی صفاتِ تنزیہہ کا نام ہے جو ازلی اور غیر متبدل ہیں اور جن میں کوئی مخلوق اس سے ایک ذرہ بھربھی مشابہت نہیں رکھتی سوائے اس کے کہ صفاتِ تشبیہہ کے ذریعہ سے ان کا علم حاصل کیا جائے اگر صفاتِ تشبیہہ نہ ہوتیں تو اللہ تعالیٰ کے کامل الصفات ہونے کا کسی قسم کا ادراک بھی خواہ وہ کتنا ہی معمولی ہوتا ہمیں حاصل نہ ہو سکتا۔عرش کی اس حقیقت کو ملحوظ رکھتے ہوئے کہ اس سے مراد صفاتِ تنزیہہ کا مجموعی نظام ہےجس کے لئے صفاتِ تشبیہہ بطور حامل کے ہوتی ہیں ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ کے یہ معنے ہوئے کہ جب اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق مکمل کر لی تو اس کی صفاتِ تنز یہہ کامل طور پرظاہر ہونے لگ گئیں اور چونکہ صفات تنزیہیہ صفاتِ تشبیہیہ کے رنگ میں ظاہر ہوتی ہیں اس لئے ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِکا یہ مطلب ہو اکہ عرش یعنی صفاتِ تنزیہیہ کے مرکز کے تابع جس قدر صفاتِ تشبیہیہ ہیں وہ سب اپنے اپنے کام میں لگ گئیں۔اس میں روحا نی طور پر اس امر کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ اسلام کے ذریعہ چونکہ ایک نیا آسمان اور نئی زمین پیدا کر دی گئی ہے اس لئے اب خدا بھی عرش پر قرار فرما ہو گیا ہے یعنی وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید کسی ایک صفت کے ذریعہ نہیں کرےگا بلکہ اُس کی وہ تمام صفات جو صفات تنزیہیہ کے تابع ہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید میں کام کرنے لگیں گی۔کیونکہ اُس نے اپنے خد ا پر سچا تو کّل کیا ہے اور اُس کا پیش کر دہ خدا زندہ ہے جس پر کسی زمانہ میں بھی موت وارد نہیں ہو سکتی۔اس لئے محمدرسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی ہر زمانہ میں تائید ہوتی چلی جائےگی اور ہر زمانہ میں اللہ تعالیٰ کی صفات اس کی سچائی کو ظاہر کرتی رہیں گی۔پھر فرماتا ہے اَلرَّحْمٰنُ فَسْـَٔلْ بِهٖ خَبِيْرًا وہ رحمٰن خدا ہے جس نے اپنی صفتِ رحمانیت کے ماتحت تمہیں اپنی بے شمار نعمتوں سے نوازا اور تمہارے لئے اُس نے زمین و آسمان اور سورج اور چاند وغیرہ پیدا کر دئے اور اگر ان تمام نعمتوں کے باوجود اس کی صفتِ رحمٰن کے متعلق تمہارے دلوں میں پھر بھی کوئی سوال پیدا ہو تو اُس سے پوچھو جو خبیر ہے۔یہفَسْـَٔلْ بِهٖ خَبِيْرًا اپنی بناوٹ کے لحاظ سے ایسا ہی فقرہ ہے جیسے عربی زبان میں کہتے ہیں کہ لَقِیْتُ بِزَیْدٍ اَسَدًا میں زید کی شکل میں ایک شیر سے ملا یعنی زید اپنی شجاعت اور دلیری کے لحاظ سے ایک شیر تھا۔یا کہتے ہیں لَقِیْتُ بِزَیْدِ الْبَحْرَ میں نے زید کی شکل میں ایک سمندر پایا۔یعنی زید اپنے جودوکر م میں ایک سمندر تھا۔اسی طرح