تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 169
عبادت کر سکیں۔یہ اعتراض آج کل کے نو تعلیم یافتہ لوگوں کی طرف سے اور پرانے ہندو فلسفہ دانوں کی طرف سے بہت اٹھایا جاتا ہے۔اسی طرح صفت رب کے گِرد گھومنے والی دوسر ی صفات پر بھی لوگوں کو شبہات پیدا ہو تے ہیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ ان تشبیہی صفات سے جو جلوہ انسان کو نظر آتا ہے وہ خدا تعالیٰ کی اصل شان کو ظاہر کرنے والا نہیں ہوتا۔بلکہ انسان کی قابلیت کے مطابق وہ صفات ڈھل جاتی ہیں۔جس طرح ایک کمزور آنکھ والا جو تیز روشنی کو نہیں دیکھ سکتا رنگ دار شیشے کی عینک لگا لیتا ہے اور اُس رنگ دار شیشے کے لگانے سے اُسے روشنی بہت ہلکی نظر آنے لگتی ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کی صفاتِ تنزیہیہ کو تشبیہیہ کے رنگ دار شیشہ میں سے انسان کو دکھایا جاتا ہے تاکہ اُس کی آنکھیں اُس کو دیکھ سکیں۔اور صفات الٰہیہ کے جلوہ کی شدت اُس کی روحانی بینائی کو ضائع نہ کر دے۔مگر جس طرح عقلمند انسان روشنی کی قوت کا اندازہ اُس روشنی پر نہیں کرتا جو رنگ دار شیشہ میں سے نظر آتی ہے۔اسی طرح سمجھ دار انسان اللہ تعالیٰ کی صفات کے اس ظہور پر معترض نہیں ہو سکتا جو انسانی کمزوری کو مدّنظر رکھتے ہوئے تنزل اور تشبیہہ کی صورت اختیار کرتا ہے۔یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ایسے ظہور کی ضرورت کیا ہے کیونکہ ایسا ظہور یقیناً انسان کو اللہ تعالیٰ کے قریب کر دیتا ہے۔رنگ دار عینک گو روشنی کو کمزور کرکے دکھاتی ہے مگر بہر حال روشنی کے فوائد سے انسان کو متمتع کرتی ہے اور اُس کی ضرورت یا اس کے فائدہ کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔اگر اسے پھینک دیا جائے تو یقیناً یا تو آنکھیں جاتی رہیں گی اور یا آنکھوں کو بند رکھ کر انسان روشنی کے فوائد سے محروم ہو جائےگا۔غرض انسان کو اللہ تعالیٰ کے جلوہ سے آشنا کرنےکے لئے اور صفاتِ الٰہیہ سے اس کی قابلیت کے مطابق اُسے واقف کرانےکے لئے اُس کی آنکھ پر تشبیہہ کی عینک لگا دی جاتی ہے جس میں سے وہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا عرفان بھی حاصل کرتا ہے اور اس کی روحانی آنکھ اس صدمہ سے بھی محفوظ ہو جاتی ہے جو اس جلوہ کی وجہ سے ہوتا ہے جو آنکھ کی بینائی کو پراگندہ تو کر دیتا ہے لیکن اسے کوئی علم نہیں بخشتا ہاں چونکہ تشبیہہ کی عینک سے انسان کو حقیقت کے متعلق بعض غلط فہمیاں پیدا ہو سکتی تھیں اس لئے لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْ ءٌ ( الشوری :۱۲) فرما کر اللہ تعالیٰ کی اصل شان کی طرف بھی اشارہ کر دیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ اب وہ رحمٰن وغیرہ کے الفاظ سے جو تم کو دھوکا لگ سکتا ہے اُس سے بچنا چاہیے کیونکہ وہ خالی رب نہیں بلکہ وہ رَبُّ الْعَرْشِ ہے۔اُس کی ربوبیت وہ ہے جس کا ایک نقطہ مخلوق سے ملتا ہے اور دوسرا نقطہ عرش سے وابستہ ہے پس اُس کی ربو بیت کو انسانی ربوبیت پر قیاس نہیں کرنا چاہیے اور ماں باپ کی طرح احتیاج اور ضرورت کی بحثوں میں اُس کی ربوبیت کو نہیں الجھا نا چاہیے۔جو بات تم کو دیکھنی چاہیے وہ صرف یہ ہے کہ آیا واقعہ میں اس عالم کا کوئی رب ہے یا نہیں۔اور اگر یہ ثابت ہو جا ئے کہ ہے تو پھر اُس کی کُنہہ معلوم کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ عرش سے آنے والی حقیقت کو فرش کا