تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 168 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 168

ہیں۔جیسے قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ بعض بیوقوف انسان ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جب انہیں کوئی ترقی حاصل ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ ہمارے علم اور طاقت کی وجہ سے حاصل ہوئی ہے۔اگر ہم علم اور سمجھ والے نہ ہوتے تو یہ ترقی کس طرح حاصل ہوتی ( زمر ع ۵) اور جب کوئی ناکامی ہوتی ہے تو اُسے خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کر دیتے ہیں ( سورۂ فجر ع ۱ ) گویا وہ ہر عیب خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کر تے ہیں اور ہر خوبی اپنی طرف منسوب کرتے ہیں لیکن اگر وہ اپنا رویّہ بدل لیں تو اُن میں کام کی رغبت اور محنت کی عادت اور چستی پیدا ہو جائے گی اور انہیں صحیح توکّل نصیب ہو جائےگا اور جسے صحیح توکّل نصیب ہو جاتا ہے اُس کی کامیابی میں کوئی شبہ نہیں رہتا۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہےالَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَيْنَهُمَا فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِیعنی تمہار ا خدا وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ وقتوں میں پیدا کیا۔اور پھر وہ عرش پر قرار فرما ہوا۔عرش جیسا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے کوئی مادی شۓ نہیں ہے۔اور نہ ہی وہ کوئی روحانی شۓ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ پھر وہ عرش پر قائم ہوگیا اور چونکہ اللہ تعالیٰ لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْ ءٌ ( الشوری :۱۲) کا مصداق ہے یعنی اس کے سوا جو کچھ ہے وہ اس کی مانند نہیں بلکہ اور قسم کا ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ کا کسی مادی بلکہ رُوحانی شئے پر قائم ہونا بھی اُس کی شان کے خلاف ہے۔بلکہ قائم ہونے کا لفظ بھی اُس کی نسبت تمثیلی طور پر ہی استعمال کیا جا سکتا ہے۔نہ کہ عام معنوں کے لحاظ سے۔پس جبکہ مادی یا روحانی اشیاء پر اس کا قرار پانا ممکن نہیں تو عرش بھی کوئی مادی یا روحانی شۓ نہیں ہو سکتا۔بلکہ اس سے مراد کوئی ایسی ہی شۓ ہو سکتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی ذات سے تعلق رکھتی ہو اور چونکہ ذات ِ باری سے تعلق رکھنے والی شۓ صفاتِ الٰہیہ ہی ہیں۔اس لئے عرش سے مراد صفات ِ الٰہیہ کا کوئی خاص ظہور ہی ہو سکتا ہے نہ کہ کچھ اور۔اور جب قرآن کریم خدا تعالیٰ کی طرف کسی تجسم کی نسبت کو جائز ہی قرار نہیں دیتا تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ اس کی طرف یہ امر منسوب کر ے کہ وہ ایک مجسّم عرش پر بیٹھا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات دو طرح ظاہر ہوتی ہیں۔ایک تنزیہی طور پر جس پرعرش کا لفظ دلالت کرتا ہے اور ایک تشبیہی طور پر جس پر خدا تعالیٰ کی ربوبیت۔رحمانیت۔رحیمیت اور مالکیت یوم الدین کا تفصیلی ظہور دلالت کرتا ہے۔تنزیہی صفات خدا تعالیٰ کی اصل صفات ہیں اور تشبیہی صفات اُن سے بطور تنزل جاری ہوتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ تشبیہی صفات سے ناواقف آدمیوں کو اللہ تعالیٰ کی ذات کے متعلق کئی شبہات پیدا ہوتے رہتے ہیں۔مثلاً رب کی صفت پر یہ شُبہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ محتاج ہے کہ بندوں کو اُس نے پیدا کیا ہے اور اُن کی ایسی تربیت کرتا ہے کہ وہ اس کی