تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 167
ابراہیم ؑ والا ایمان پیدا نہیں ہوتا اور جب تک تمہارے اندر وَاِذَا مَرِضْتُ فَھُوَ یَشْفِیْنِ والا احساس پیدا نہیں ہوتا۔جب تک تم یہ نہیں سمجھتے کہ جب بھی کوئی کمزوری آئے گی وہ ہماری طرف سے ہوگی۔اور جب ہم میں قوت اور طاقت پیدا ہوگی تو وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوگی اُس وقت تک تم کامیاب نہیں ہو سکتے۔لیکن جب تم اپنے اندر یہ تغیر پیدا کر لو گے تو تمہارے اند ر کام کا ایک زبر دست میلان پیدا ہو جائےگا اور تمہیں کامیابی ہی کامیابی حاصل ہو تی چلی جائےگی۔اگر حضرت ابراہیم علیہ السلام صرف اِذَا مَرِضْتُ کہہ دیتے تو پھر مایوسی ہی مایوسی ہوتی اوراگر فَھُوَ یَشْفِیْنِ کہہ دیتے تو اُمید ہی امید ہوتی اور یہ دونوں باتیں درست نہیں ہیں ،جب تک کسی کا ایمان خوف اور رجاء کے درمیان نہ ہو۔اُس کے کسی کام کا صحیح نتیجہ نہیں نکلتا۔اسی لئے آپ نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے اٹھنے کا موقع بھی دیا ہے اور گرِنے کا موقع بھی دیا ہے۔اگر میں پوری محنت نہیں کروںگا تو میں گِروں گا اور اگر میں پوری محنت کروںگا اور اس کے ساتھ ہی خدا تعالیٰ پر توکّل کروںگا تو میں جیتوں گا۔پس آپ نے یہ دونوں باتیں بیان کرکے واضح کر دیا کہ انسان کے لئے محنت اور توکّل دونوں چیزیں ضروری ہیں۔اگر ہم محنت نہیں کریں گے تو ہمارے کام خراب ہوںگے۔اور اگر ہم توکّل نہیںکریں گے تب بھی ہم کامیاب نہیں ہوںگے۔گویا خدا تعالیٰ انسان کی محنت کی تکمیل کرتا ہے۔اُس کا قائم مقام نہیں ہوتا۔اگر وہ انسان کی محنت کا قائم مقام ہوتا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ بات کہ وَاِذَا مَرِضْتُ فَھُوَ یَشْفِیْنِ غلط ہوتی۔مگر آپ نےاِذَا مَرِضْتُ کہہ کر بتا یا ہے کہ اگر میں بیمار ہو نے والے افعال کروں تو خدا تعالیٰ مجھے بیمار ہونے سے نہیں روکتا۔اورھُوَ یَشْفِیْنِ کہہ کر بتا یا کہ میں خود بخود کامل شفا حاصل نہیں کر سکتا۔کامل شفا دینے والی خدا تعالیٰ کی ہی ذات ہے۔اور یہی ترقی اور کامیابی کی کلید ہے۔جب تک کوئی قوم اس گُر کو نہیں سمجھتی وہ کامیابی حاصل نہیں کر سکتی۔یورپ اور امریکہ کیوں ترقی کر رہے ہیں وہ اسی لئے ترقی کر رہے ہیں کہ انہوں نے اس اصول کا ایک حصہ پورا کر دیا ہے۔اور ہم ناکام اس لئے ہو رہے ہیں کہ ہم نے اس کے دونوں حصوں کو گِرا دیا ہے۔اگر کسی زمیندار کے پاس ایک بیل ہو تو وہ ہل چلالیتا ہے۔لیکن دونوں بیل ہی نہ ہوں تو ہل نہیں چلا سکتا۔اسی طرح اگر کسی کے پاس ایک ہی گھوڑا ہو تو فٹن نہ سہی وہ ایکہ چلا سکتا ہے لیکن جس کے پاس ایک گھوڑا بھی نہ ہو تو وہ ایکہ بھی نہیں چلا سکتا۔اسی طرح یورپ نے توکّل کرنا بیشک چھوڑ دیا ہے لیکن چونکہ اُس نے محنت والا حصہ پورا کر دیا ہے اس لئے وہ ترقی کر رہا ہے اور ہم نے دونوں حصوں کو ترک کر دیا ہے اس لئے ہم ناکام رہتے ہیں۔پھر جب ہم کوئی کام کرتے ہیں اور اُس میں ناکام ہو تے ہیں تو اس ناکامی کو ہم اپنی طرف منسوب نہیں کرتے بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے تو محنت کی تھی مگر خدا تعالیٰ نے کامیاب نہیں کیا۔اور اگر کچھ مل جاتا ہے تو ہم اس کامیابی کو اپنی طرف منسوب کر لیتے