تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 13
امتیاز کر دیتا ہے کہ انسان کے لئے اُس کے مناسب حال طریق عمل بالکل واضح ہو جاتا ہے اور ہدایت اور گمراہی کی راہیں اس کے لئے روشن ہو جاتی ہیں سورۂ بقرہ میں بھی قرآن کریم کی ایک امتیازی خصوصیت اس کا فرقان ہونا بیان کیا گیا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْۤ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَيِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَ الْفُرْقَانِ ( البقرۃ:۱۸۶) یعنی رمضان کا مہینہ وہ مقدس اور بابرکت مہینہ ہے جس کے بارہ میں قرآن کریم نازل کیا گیا ہے۔وہ قرآن جو تمام انسانوںکے لئے ہدایت کا موجب ہے اور اپنے اندر ایسے کھلے دلائل رکھتا ہے جو ہدایت پیدا کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی قرآن کریم فرقان بھی ہے یعنی ایسے نشانات پر بھی مشتمل ہے جو حق و باطل میں امتیاز کر دیتے ہیں اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب بھی کوئی نبی دنیا میں مبعوث ہوتا ہے اُسے فرقان عطاء کیا جاتا ہے یعنی اُسے ایسے نشانات معجزات عطا کئے جاتے ہیں۔جن کے ذریعہ حق و باطل میں امتیاز ہو جاتا ہے۔مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دوسرے نبیوں پر یہ امتیاز حاصل ہے کہ دوسرے نبیوں کو کتاب اور اس کے علاوہ فرقان ملا تھا۔لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو کتاب ناز ل ہوئی وہی فرقان تھی۔توراۃ اپنی سچائی کے لئے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دوسرے معجزات کی تائید کی محتاج تھی۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے الہامات دوسرے معجزات کی تصدیق کے محتا ج تھے۔لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کتاب اپنی ذات میں فرقان ہے۔یعنی وہ ایک زندہ اور کامل کتاب ہے اور اگر دوسرے معجزات لوگوں کو بھول بھی جائیں تب بھی وہ اپنی سچائی کا ثبوت اپنے اندر رکھتی ہے اور حق و باطل میں امتیاز کر دیتی ہے۔پھر فرماتا ہے۔وہ خدا اس لئے بھی برکتوں والا ہے کہ اُس نے اپنا کلام ایک عبد پر اتارا ہے۔یعنی اس ہستی پر جو اپنے آپ کو کامل طور پر اللہ تعالیٰ کے تابع کر دیتی اور رات دن اس کے احکام کے پورا کرنے میں لگی رہتی ہے۔یوں تو دنیا میں سینکڑوں لوگ قوم کی اصلاح کے مدعی ہوتے ہیں مگر جو باتیں وہ دوسروں سے کہتے ہیں اُن پر وہ خود عمل نہیں کرتے۔وہ کہلاتے تو لیڈر اور راہنما ہیں لیکن اُن کا عمل اُن کی تعلیم کے خلاف ہوتا ہے اور اس طرح وہ دوسروںکے لئے ٹھوکر کا موجب بنتے ہیں۔لوگ جب ان کی تعلیم کو دیکھتے ہیں تو اُسے قابلِ تعریف قرار دیتے ہیں۔لیکن جب اُن کے اعمال کو دیکھتے ہیں تو اُن سے نفرت کرنے لگ جاتے ہیں یااُن کی منافقت اور بے ایمانی کو دیکھ کر یہ خیال کرنے لگتے ہیں کہ ہمیں بھی اس قسم کی منافقت اختیار کرنی چاہیے۔لیکن خدا تعالیٰ کا نبی لوگوں کو جو تعلیم دیتا ہے اس کا نمونہ وہ اپنے وجود کے ذریعہ دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے۔نبی کے آنے سے پہلے بہت حد تک صداقتیں دنیا میں موجود ہوتی ہیں لیکن لوگ اپنے کمئی ایمان کی وجہ سے ان صداقتوں کو پسِ پشت ڈال رہے ہوتے