تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 163
ہوگا۔اور اگر وہ اُن اسباب پر کلی انحصار کرے گا جو اس عالم میں پائے جاتے ہیں تب بھی وہ توکل کے خلاف چلےگا کیونکہ اُس کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ حمد کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرے اور اللہ تعالیٰ کو ہی ہر قسم کے نقائص اور کمزوریوں سے منزہ سمجھے۔اپنے متعلق یہ کبھی تصور بھی نہ کرے کہ وہ کسی چیز پر کامل اقتدار رکھتا ہے اور جو چاہے کر سکتا ہے ہر قسم کی کمزوریوں سے پاک صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے اور ہر قسم کی تعریف اور تحمید کا بھی وہی مستحق ہے۔پس انسان کا کام یہ ہے کہ وہ توکل کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے قوانین سے بھی کام لے اور اُن کے مطابق چلے۔مثلاً اللہ تعالیٰ نے ہم کو ہاتھ دئیے ہیں پائوں دئیے ہیں دماغ دیا ہے اور دنیوی سامان بھی عطا فرمائے ہیں ایسی صورت میں اپنے آپ کو خدا کے سپر د کرنے کے یہ معنے ہیں کہ جو کچھ خدا نے جس کام کے لئے پیدا کیا ہے اُس کو ہم استعمال کریں۔پس توکل کا پہلا مقام یہ ہے کہ جو کچھ خدا تعالیٰ نے ہم کو دیا ہے اس کو ہم زیادہ سے زیادہ استعمال کریں اور پھر جو کمی رہ جائے وہ خدا تعالیٰ کے سپرد کر دیں۔اور یقین رکھیں کہ خدا اس کمی کو آپ پورا کرے گا۔جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے مقام پر صحابہ ؓ کی ایک ترتیب قائم کی اُن کو اپنی اپنی جگہوں پر کھڑا کیا۔انہیں نصیحتیں کیں کہ یوں لڑنا ہے اور اس کے بعد ایک عرشہ پر بیٹھ کر دُعائیں کرنے لگ گئے۔یہ نہیں کیا کہ صحابہ ؓ کو مدینہ میں چھوڑ جاتے اور آپ اکیلے وہاں بیٹھ کر دُعائیں کرنے لگ جاتے بلکہ پہلے آپ صحابہ ؓ کو لےکر مقامِ جنگ پر پہنچے۔پھر اُن کو ترتیب دی اور ان کو نصیحتیں فرمائیں اس کے بعد عرشہ پر بیٹھ گئے اور دُعائیں کرنی شروع کر دیں یہ توکل ہے جو اختیار کرنا چاہیے۔ہر وہ شخص جو اُن سامانوں سے کام نہیں لیتا جو خدا تعالیٰ نے اس کو بخشے ہیں اور کہتا ہے کہ میں اپنا کام خدا پر چھوڑ تا ہوں وہ جھوٹا ہے وہ خدا سے تمسخر کرتا ہے اور ہر وہ شخص جو سامانوں سے کام لیتا ہے اور کہتا ہے کہ اب فلاں کام میں ہی کروںگا وہ بھی جھوٹا ہے کیونکہ وہ اپنے کاموں میں خدا تعالیٰ کا دخل تسلیم نہیں کرتا۔کام آسان ہوں یا مشکل آخراُن کی کنجی خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام سے ایک بات میں نے بار ہا سنی ہے۔آپ ترکیہ کے سلطان عبدالحمید خان کا جو معزول ہو گئے تھے ذکر کرتے ہوئے فرمایا کرتے تھے کہ سلطان عبدالحمید خان کی ایک بات مجھے بڑی ہی پسند ہے۔جب یونان سے جنگ کا سوال اُٹھا تو وزراء نے بہت سے عذرات پیش کر دئیے۔دراصل سلطان عبدالحمید کا منشاء تھا کہ جنگ ہو مگر وزراء کا منشا ء نہیں تھا۔اس لئے انہوں نے بہت سے عذرات پیش کئے۔آخر انہوں نے کہا جنگ کے لئے یہ چیز بھی تیار ہے اور وہ چیز بھی تیار ہے لیکن کسی اہم چیز کا ذکر کرکے کہہ دیا کہ فلاں امر کا انتظام نہیں ہے۔مثلاً یوں سمجھ لو کہ انہوں نے کہا ( اور غالباً یہی کہا ہوگا ) کہ تمام یورپین طاقتیں اس وقت اس بات پر متحد ہیں کہ