تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 161
لیکن اسلام ان دونوں قسم کی تعلیموں کے درمیان درمیان تعلیم دیتا ہے۔وہ نہ تو موسیٰ ؑ کی طرح یہ کہتا ہے کہ تُو جارحانہ طورپر کسی ملک میں گھس جااور اس قوم کو تہ تیغ کر دے اور نہ وہ اس زمانہ کی بگڑی ہوئی مسیحیت کی طرح ببانگ ِ بلند تو یہ کہتا ہے کہ ’’ اگر کوئی تیرے ایک گال پر تھپڑ مارے تو تُو اپنا دوسرا گال بھی اُس کی طر ف پھیر دے ‘‘ اور اپنے ساتھیوں کے کان میں یہ کہتا ہے کہ تم اپنے کپڑے بیچ کر بھی تلوار خرید لو۔بلکہ اسلام وہ تعلیم پیش کرتا ہے جو فطرت کے عین مطابق ہے اور جو امن اور صلح کے قیام کا ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ یہ کہ تو کسی پر حملہ نہ کر۔لیکن اگر کوئی شخص تجھ پر حملہ کرے اور اُس کا مقابلہ نہ کرنا فتنہ کے بڑھانے کا موجب نظر آئے اور راستی اور امن اُس سے مٹتا ہو۔تب تُو اُس حملے کا جواب دے۔اب بتائو کہ کیا یہ ظالمانہ تعلیم ہے یا یہی وہ تعلیم ہے جس پر عمل کر کے دنیا میں امن اور صلح قائم ہو سکتی ہے۔اس تعلیم پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمل کیا۔آپ مکہ میں برابر تکلیفیں اُٹھاتے رہے لیکن آپ نے لڑائی کی طرح نہ ڈالی۔جب مدینہ میں آپ ؐ ہجرت کر کے تشریف لے گئے اور دشمن نے وہاں بھی آپ کا پیچھا کیا تب خدا تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ چونکہ دشمن جارحانہ کارروائی کر رہا ہے اور اسلام کو مٹانا چاہتا ہے۔اس لئے راستی اور صداقت کے قیام کے لئے آپ اس کا مقابلہ کریں۔مگر ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے وضاحتًا ہدایت دےدی کہ وَقَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَکُمْ وَلَا تَعْتَدُوْا اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبَّ الْمُعْتَدِیْنَ( البقرۃ :۱۹۱) یعنی اُن لوگوں سے جو تم سے جنگ کرتے ہیں محض اللہ تعالیٰ کی خاطر جس میں تمہارے اپنے نفس کا غصہ اور نفس کی ملونی شامل نہ ہو جنگ کر و۔اور یاد رکھو کہ جنگ میں بھی کوئی ظالمانہ فعل نہ کرنا کیونکہ اللہ تعالیٰ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔پھر فرمایا قُلْ لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ يَّنْتَهُوْا يُغْفَرْ لَهُمْ مَّا قَدْ سَلَفَ١ۚ وَ اِنْ يَّعُوْدُوْا فَقَدْ مَضَتْ سُنَّتُ الْاَوَّلِيْنَ۔وَ قَاتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ يَكُوْنَ الدِّيْنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ١ۚ فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّٰهَ بِمَا يَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ( الانفال :۳۹۔۴۰)یعنی اے محمد رسول اللہ اگر یہ لوگ اب بھی لڑائی سے باز آجائیں تو جو کچھ وہ پہلے کر چکے ہیں انہیں معاف کر دیا جائےگا۔لیکن اگر وہ لڑائی سے باز نہ آئیں اور با ر بار حملے کریں تو پہلے انبیاء کے دشمنوں کے انجام ان کے سامنے ہیں۔ان کا انجام بھی وہی ہوگا اور اے مسلمانو ! تم اس وقت تک جنگ جاری رکھو جب تک کہ دنیا سے مذہب کی خاطر دُکھ دینا مٹ نہ جائے۔اور دین کو کلی طور پر خدا تعالیٰ کے سپر د نہ کر دیا جائے۔پھر اگر یہ لوگ ان باتوں سے باز آجائیں تو محض اس وجہ سے اُن سے جنگ نہ کرو کہ وہ ایک غلط دین کے پیرو ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ اُن کے عمل کو جانتا ہے وہ خود جیسا چاہے گا ان سے معاملہ کرے گا۔تمہیں اُن کے غلط دین کی وجہ سے اُن کے کاموں میں دخل دینے کی اجازت نہیں ہو سکتی۔پھر فرمایايٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا ضَرَبْتُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ فَتَبَيَّنُوْا وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰۤى اِلَيْكُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا١ۚ تَبْتَغُوْنَ عَرَضَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا١ٞ فَعِنْدَ اللّٰهِ مَغَانِمُ كَثِيْرَةٌ١ؕ كَذٰلِكَ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَيْكُمْ فَتَبَيَّنُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرًا(النسا ء :۹۵) یعنی اے مومنو ! جب تم خدا کی خاطر لڑائی کرنے کے لئے باہر نکلو تو اس بات کی اچھی طرح تحقیقات کر لیا کرو کہ تمہارے دشمن پر حجت تمام ہو چکی ہے اور وہ بہر حال لڑائی پر آمادہ ہے۔اور اگر کوئی شخص تمہیں کہے کہ میں تو صلح کرتا ہوں تو یہ مت کہو کہ تُو دھوکا دیتا ہے۔اور ہمیں امید نہیں کہ ہم تجھ سے امن میں رہیں گے۔اگر تم ایسا کرو گے تو پھر تم خدا کی راہ میں لڑنے والے نہیں سمجھے جائو گے بلکہ تم دنیا طلب قرار پائو گے۔پس ایسا مت کرو کیونکہ جس طرح خدا کے پاس دین ہے اسی طرح خدا کے پاس دنیا کا بھی بہت سا سامان ہے۔تمہیں یاد رکھنا چاہیے کہ کسی شخص کا مار دینا اصل مقصود نہیں۔تمہیں کیا معلوم ہے کہ کل کو وہ ہدایت پا جائے۔تم بھی تو پہلے دین اسلام سے باہر تھے پھر اللہ تعالیٰ نے احسان کر کے تمہیں اس دین کے اختیار کرنے کی توفیق دی۔پس مارنے میں جلد ی مت کرو بلکہ حقیقتِ حال کی تحقیق کیا کرو۔اور یاد رکھو جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس سے خوب واقف ہے۔اس آیت میں بتا یا گیا ہے کہ جب لڑائی شروع ہو جائے تب بھی اس بات کی اچھی طرح تحقیق کرنی چاہیے کہ دشمن کا ارادہ جارحانہ لڑائی کا ہے یا نہیں کیونکہ ممکن ہے کہ دشمن جارحانہ لڑائی کا ارادہ نہ کرتا ہو بلکہ وہ خود کسی خوف کے ماتحت فوجی تیاری کر رہا ہو۔پس پہلے اچھی طرح تحقیقات کر لیا کرو کہ دشمن کا ارادہ جارحانہ جنگ کا تھا تب اس کے سامنے مقابلہ کے لئے آئو۔اور اگر وہ یہ کہے کہ میرا ارادہ تو جنگ کرنے کا نہیں تھا میں تو صرف خوف کی وجہ سے تیاری کر رہا تھا تو تمہیں یہ نہیں کہنا چاہیے کہ نہیں تمہاری جنگی تیاری بتاتی ہے کہ تم ہم پر حملہ کرنا چاہتے تھے۔ہم کس طرح سمجھیں کہ ہم تم سے مامون اور محفوظ ہیں بلکہ اس کی بات کو قبول کر لو اور یہ سمجھو کہ اگر پہلے اس کا ایسا ارادہ بھی تھا تو ممکن ہے بعد میں اُس میں تبدیلی پیدا ہو گئی ہو۔کیونکہ تم خود اس بات کے زندہ گواہ ہو کہ دلوں میں تبدیلی پیدا ہو جاتی ہے۔