تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 157
ان حوالہ جات سے یہ امر واضح ہے کہ اسلام غیر مسلموں کے ساتھ کسی قسم کی ناواجب سختی کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ وہ اُن کے تمام حقوق کا خیال رکھتا اور اُن پر ہر قسم کے ظلم کو ناجائز قرار دیتا ہے۔تاریخ میں لکھا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک دفعہ ایک مسلمان نے ایک ذمی کافر کو قتل کر دیا۔اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس مسلمان کو قصاص کے طور پر قتل کر دیا جائے اور فرمایا ذمیوں کے حقوق کی حفاظت میرا سب سے اہم فرض ہے۔( نصب الرأیہ فی تخریج احادیث الہدایہ کتاب الجنایات، باب ما یوجب القصاص ) اسی بنا ء پر امام یوسف نے کتاب الخراج میں اس امر کو تسلیم کیا ہے کہ عہدنبوی ؐ اور زمانۂ خلافت راشدہ میں ایک مسلمان اور ذمی کادرجہ تعزیرات اور دیوانی قانون کے لحاظ سے بالکل یکساں تھا۔اور دونوں میں کوئی امتیاز نہیں کیا جاتا تھا۔( کتاب الخراج صفحہ ۱۰۸)ایک دفعہ خیبر کے یہودیوں کی شرارتوں سے تنگ آکر بعض مسلمانوں نے اُن کے کچھ جانور لوٹ لئے اور اُن کے باغوں کے پھل توڑ لئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا علم ہوا تو آپ سخت ناراض ہوئے اور فرمایا۔اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ اجازت نہیں دی کہ تم رضامندی حاصل کئے بغیر اہل کتاب کے گھروں میں گھس جائو۔اسی طرح تمہارے لئے یہ بھی جائز نہیں کہ تم اُن کی عورتوں کو مارو یا اُن کے باغوں کے پھل توڑ و۔( ابوداؤد کتاب الخراج باب فی تعشیر اھل الذمة اذا اختلفوا بالتجارۃ )۔ایک دفعہ بعض صحابہ ؓ نے سفر کی حالت میں جبکہ انہیں بھوک کی تکلیف تھی کفار کی چند بکریاں پکڑلیں۔اور ذبح کرکے اُن کا گوشت پکانا شروع کردیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ نے ہانڈیاں اُلٹ دیں اور فرمایا کہ لوٹ کی ہر چیز مردار سے بدتر ہے۔( بخاری کتاب الجھاد باب ما یکرہ من ذبح الابل والغنم فی المغانم ) ایک دفعہ مشرکین کے چند بچے لشکر کی لپٹ میں آکر ہلاک ہو گئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا بڑا صدمہ ہوا۔اور آپ نے فرمایا۔مشرکین کے بچے بھی تمہاری طرح کے انسان ہیں۔اس لئے خبردار بچوں کو قتل مت کرو۔خبردار بچوں کو قتل مت کرو۔( مسند احمد بن حنبل جلد ۴ صفحہ ۳۰۲ حدیث الاسود بن سریعؓ)۔ممکن ہے اس موقعہ پر کسی شخص کے دل میں سوال پیدا ہو کہ اگر اسلام غیر مذاہب کے متعلق ایسی ہی روادارانہ تعلیم کا حامل ہے تو پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مدنی زندگی میں کفار کے مقابلہ میں تلوار کیوں اٹھائی۔سو اس کے متعلق یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ بیشک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار کے مقابلہ میں تلوار اٹھانی پڑی مگر آپ کا یہ تلوار اٹھانا محض دفاعی طور پر تھا۔جب عرب کے کفار نے تلوار کے زور سے اسلام کو مٹانا چاہا اور برابر تیرہ سال تک وہ ہر قسم کے مظالم سے کام لے کر مسلمانوں کو اُن کے دین اور مذہب سے منحرف کرنے کی کوشش کرتے رہے تو آخر