تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 156 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 156

عہدوں سے الگ کیا جائے۔اس پر اُس نے جواب دیا کہ مذہب کا دنیوی معاملات سے کوئی تعلق نہیں اور اس قسم کے معاملات میں تعصّب کو کوئی دخل نہیں ہونا چاہیے۔پھر اُس نے یہ آیت پڑھی کہ لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ۔پھر اُس نے کہا کہ اگر ہم اس درخواست کو تسلیم کریں تو پھر ہمیں تمام راجوں اور اُن کی رعایا کو قتل کر دینا چاہیے۔PREACHING OF ISLAM by Sir THOMAS ARNOLD P۔214 ANECDOTS OF AURANG ZEB by Sir JADHNAND CIRCAR P۔97-100 اسی طرح عالمگیر کے ایک فرمان کا یہ فقرہ ہے کہ ’’ حکومت کے عہدے قابلیت کے اصول پر دئے جائیں۔کسی اور خیال کے ماتحت نہ دئے جائیں۔‘ ‘ PREACHING OF ISLAM by Sir THOMAS ARNOLD P۔214 پھرمغلیہ حکومت کے متعلق ایک اور مصنف لکھتا ہے کہ ’’ بنگال کا حکومتی مذہب اسلام ہے۔لیکن ملازمتوں کا یہ حال ہے کہ ایک مسلمان کے مقابلہ میں سو ہندو ہے اور تمام سرکاری عہدے اور اعتبار کی جگہیں دونوں قوموں سے چُنی جاتی ہیں۔‘‘ A NEW ACCOUNT Of THE EAST INDIES Vol۔2 p۔14 اور یہ تو ہر شخص جانتا ہے کہ مغلیہ حکومت نے ہندو کمانڈر انچیف تک مقرر کئے۔چنانچہ جرنیل مان سنگھ۔جسونت سنگھ اور جے سنگھ مشہور مثالیں ہیں (اورنگزیب از رشید اختر ندوی )۔مسلمانوں کا غیر مسلموں سے یہ روا دارانہ سلوک اتنا نمایاں تھا کہ خود غیر مسلموں نے بھی اس کا اعتراف کیا ہے۔چنانچہ مشہور عیسائی مؤرخ جرجی زیدان لکھتا ہے۔’’ مسلمانوں کے نہایت تیزی کے ساتھ علمی ترقی کرنے کا ایک زبر دست سبب یہ بھی تھا کہ خلفاء اسلام ہر قوم اور ہر مذہب کے علماء کے بہت بڑے قدر دان تھے اور ہمیشہ اُن کو انعام و اکرام سے مالا مال کرتے رہتے تھے۔اُن کے مذہب ، اُن کی قومیت اور اُن کے نسب کا کچھ خیال نہیں کرتے تھے اُن میں نصرانی۔یہودی۔صابی۔سامری اور مجوسی غرض ہر مذہب و ملت کے لوگ تھے خلفاء ان کے ساتھ نہایت عزت اور عظمت کا برتائو کرتے تھے۔اور غیر مسلموں کو وہی آزادی اور درجہ حاصل تھا جو مسلمان امراء یا حکام کو حاصل ہوتا تھا۔‘‘ ( تاریخ التمدن الاسلامی جلد ۳ الکتب التی ترجمت فی النھضة العباسیة زیر عنوان محاسبۃ الخلفاء وللعلماء غیر المسلمین صفحہ ۱۹۴)