تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 155
اس زمانہ میں ایک عیسائی وزیر جنگ بھی مقرر کیا گیا۔چنانچہ عباسی خلیفہ معتضد کا وزیر جنگ ایک عیسائی تھا جس کا نام صابی تھا ( تاریخ عرب مصنفہ پروفیسر ہٹی ایڈیشن پنجم پارٹ iiiصفحہ ۳۵۵) عباسی خلیفہ المتقی کا بھی ایک عیسائی وزیر تنوخی نام کا تھا ( تاریخ عرب مصنفہ پروفیسر ہٹی ایڈیشن پنجم صفحہ ۳۵۵) بو لیہہ خاندان کے ایک بادشاہ عضدالدولہ کا بھی ایک عیسائی وزیر نسربن ہارون تھا۔( تاریخ عرب مصنفہ پروفیسر ہٹی صفحہ ۳۵۵) سپین کی حکومت کے متعلق بھی تاریخ سے ثابت ہے کہ اُس میں قاضی القضاۃ تک کا عہدہ بھی غیر مذاہب والوں کو دیا جاتا تھا۔چنانچہ عبدالرحمٰن ثالث بادشاہ سپین کے بیٹے الحکم ثانی کے زمانہ میں ایک عیسائی ولید بن خیزدران کو قرطبہ میں حکومت کا جج مقرر کیا گیا ( تاریخ عرب مصنفہ پروفیسر ہٹی ایڈیشن پنجم پارٹ iiiباب xxxviii صفحہ ۵۲۹۔۵۳۰) اسی طرح عبدالرحمٰن ثالث بادشاہ سپین کا ایک یہودی وزیر تھا جس کا نام رِبی حسدی شپروت تھا ( تاریخ عرب مصنفہ پروفیسر ہٹی پارٹiii باب xiصفحہ ۵۷۷) اسی طرح تاریخ سے معلو م ہوتا ہے کہ سپین میں بھی ایک کونسل آف سٹیٹ مقرر کی گئی تھی جس کے ممبر غیر مسلم بھی ہوتے تھے۔چنانچہ ایک عیسائی GOMEZ SON OF ANTONYبھی اس کونسل آف سٹیٹ کا ممبر تھا اور بادشاہ عبدالرحمٰن ثالث نے ایک بڑی سیاسی میٹنگ میں جس کے لئے تمام سپینش بشپ بلائے گئے تھے اپنی بیماری کی وجہ سے اس کو اپنا قائم مقام بنا کر بھیجا اور اُسے ریذیڈنٹ مقرر کیا۔A SHORT HISTORY OF THE SARACENS by Ameer Ali chapter xxvi p۔448 اسی طرح سموئل بن عارف ایک عیسائی اسلامی حکومت غرناطہ میں وزیر مقرر کیا گیا ( اخبار اندلس جلد سوم صفحہ ۱۴۶)۔سکاٹس کی ’’ تاریخ اندلس ‘‘ میں یہ بھی لکھا ہے کہ جب بادشاہوں کو کوئی اہم سفارت بھیجنی ہوتی تھی تو وہ مقتدر یہودیوں کو بھیجا کرتے تھے ( اخبار اندلس جلد سوم ترجمہ ازخلیل الرحمٰن صاحب صفحہ ۱۴۵)۔مصر کی فاطمی حکومت میں بھی غیر مسلموں کو بڑے بڑے درجے دئیے جاتے تھے۔چنانچہ فاطمی بادشاہ العزیز کے زمانہ میں ایک عیسائی عیسیٰ بن نستور کو وزیر بنا یا گیا ( تاریخ عرب مصنفہ پروفیسر ہٹی ایڈیشن پنجم باب xiiiصفحہ ۶۲۰) اسی طرح تاریخ سے یہ بھی ثابت ہے کہ بہت سے فاطمی بادشاہوں کے وزراء عیسائی اور یہودی ہوا کرتے تھے۔A SHORT HISTORY OF THE SARACENS by Ameer Ali chapter xxvi p۔413 ہندوستان میں سب سے زیادہ بدنام اور نگ زیب ہے لیکن اورنگ زیب کے متعلق تاریخ سے ثابت ہے کہ وہ سیاسی معاملات میں کسی قسم کا امتیاز اور فرق کرنا جائز نہیں سمجھتا تھا۔او ر دلیل یہی دیا کرتا تھا کہ قرآن کریم میں صاف حکم ہے کہ لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ (الکافرون:۷)۔چنانچہ ایک دفعہ اس کے پاس درخواست کی گئی کہ ذِمیوں کو کلیدی