تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 154 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 154

اسلام کی ایسی روادارانہ تعلیم کا ہی یہ اثر تھا کہ اسلامی ملکوں میں اسلامی حکومتوں کے ماتحت غیر اقوام کے لوگ بڑے بڑے اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اور آپ کے خلفاء کے زمانہ میں اسلام ایک جنگی انتشار کی حالت میں سے گذر رہا تھا اور ابھی ایسی حکومت قائم نہیں ہوئی تھی جس میں تمام اقوام مل کر بس جانے کا فیصلہ کر تیں اس لئے بعض سیاسی حقوق کامل طور پر غیر مسلموں کو نہیں دئیے جا سکتے تھے مگر باوجود اس کے جہاں جہاں ممکن تھا اُن کو سرداری کے حقوق دئیے گئے ہیں چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مقنا کو جو خط لکھا اُس میں صاف طور پر یہ الفاظ پائے جاتے ہیں کہ لَیْسَ عَلَیْکُمْ اَمِیْرٌ اِلَّا مِنْ اَنْفُسِکُمْ اَوْ مِنْ اَھْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ( مجموعۃ الوثائق السیاسیۃ ،معاھدتہ صلی اللہ علیہ وسلم مع اھل مقنا صفحہ ۳۶) یعنی تمہاری قوم میں گورنر یا تم میں سے ہوگا یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان میں سے ہوگا۔اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تسلیم فرماتے ہیں کہ کسی علاقہ کا گورنر غیر مسلم بھی ہو سکتا ہے۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفاء کے زمانہ میں بھی حالانکہ ابھی ملک میں پُرامن طور پر ساری قومیں نہیں بسی تھیں ان حقوق کو تسلیم کیا جاتا تھا۔چنانچہ علامہ شبلی اس کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔’’ حضرت عمر ؓ نے صیغہ ٔ جنگ کو جو وسعت دی تھی اس کے لئے کسی قوم اور کسی ملک کی تخصیص نہ تھی۔یہاں تک کہ مذہب و ملت کی بھی کچھ قید نہ تھی۔والنٹیرٔ فوج میں تو ہزاروں مجوسی شامل تھے جن کو مسلمانوں کے برابر مشاہرے ملتے تھے۔فوجی نظام میں بھی مجوسیوں کا پتہ ملتا ہے۔‘‘ ( الفاروق ازشبلی نعمانی حصہ دوم زیر عنوان صیغہ ٔ فوج صفحہ ۲۵۱) اسی طرح لکھتے ہیں : ’’ یونانی اور رومی بہادر بھی فوج میں شامل تھے۔چنانچہ فتح مصر میں ان میں سے پانسو آدمی شریک جنگ تھے۔اورجب عمرو بن العاص نے فسطاط آباد کیا تو یہ جداگانہ محلے میں آباد کئے گئے۔یہودیوں سے بھی یہ سلسلہ خالی نہ تھا چنانچہ مصر کی فتح میں ان میں سے ایک ہزار آدمی اسلامی فوج میں شریک تھے۔‘‘ ( الفاروق حصہ دوم صفحہ ۲۵۱زیر عنوان صیغہ ٔ فوج) اسی طرح تاریخ سے ثابت ہے کہ غیر اقوام کے افراد کو جنگی افسر بھی مقرر کیا جاتا تھا۔چنانچہ حضرت عمر ؓ کے زمانہ میں ایرانیوں کو بھی فوجی افسر مقرر کیا گیا۔اُن میں سے بعض کے نام بھی تاریخ میں موجود ہیں۔علامہ شبلی نے چھ فوجی افسروں کے نام یہ لکھے ہیں۔’’ سیاہ ؔ۔خسروؔ۔شہریارؔ۔شیرویہ ؔ۔شہرویہ ؔ۔افرودین ‘‘ ( الفاروق حصہ دوم صفحہ ۲۵۱زیر عنوان صیغہ ٔ فوج) ان افسروں کو تنخواہیں بھی سرکاری خزانہ سے ملتی تھیں PAY ROLLمیں اُن کا نام تھا۔چاروں خلفاء کے بعد حضرت معاویہ ؓ کے متعلق تاریخ سے ثابت ہے کہ اُن کے زمانہ میں ایک عیسائی ابن آثال نامی وزیر خزانہ تھا۔( تاریخ عرب مصنفہ پر وفیسر ہٹی پارٹiiiباب xviiصفحہ ۱۹۶)عباسی خلافت کے زمانہ میں باقاعدہ منظم حکومت قائم کی گئی اور مختلف قوموں اور علاقوں کے نمائندوں کی ایک کونسل آف سٹیٹس مقرر کی گئی۔اس کونسل آف سٹیٹ میں عیسائی یہودی صابی اور زرتشتی بھی شامل تھے A SHORT HISTORY OF THE SARACENS by Ameer Ali p۔274-275