تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 153
کہہ رہی تھی کہ یہ لوگ میرے قاتل ہیں جس نے تیری خاطر سالہا سال اپنی قوم کا مقابلہ کیا۔عالمِ خیال میں حضرت خدیجہ ؓ آپ کے سامنے کھڑی کہہ رہی تھیں کہ میں نے اپنا مال و دولت اور اپنا آرام و آسائش سب کچھ آپ کے لئے قربان کر دیا تھا۔اب یہ لوگ جو میرے قاتل ہیں آپ کے سامنے کھڑے ہیں۔حضرت حمزہ ؓ کھڑے کہہ رہے تھے کہ انہی میں سے وہ لوگ ہیں جنہوں نے میری لاش کی بے حرمتی کی اور میرے جگر اور کلیجہ کو باہر نکال کر پھینک دیا تھا۔آپ کی بیٹی آپ کے سامنے کھڑی کہہ رہی تھیں کہ یہ وہ لوگ ہیں کہ جنہیں ایک عورت پر ہاتھ اُٹھا تے ہوئے شرم نہ آئی او ر ایسی حالت میں مجھ پر حملہ کیا جبکہ میں حاملہ تھی اور مجھے ایسا نقصان پہنچایا جس کے بعد میری وفات ہو گئی۔(الاستیعاب فی معرفة الاصحاب باب زینب بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم)پھر وہ سینکڑوں صحابہ ؓ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے بچوں سے بھی زیادہ عزیز تھے اور جن میں سے ایسے لوگ بھی تھے کہ جب اُن میں سے ایک کو کفار نے پکڑ ا اور قتل کرنے لگے تو انہوں نے پوچھا کہ کیا تم یہ پسند نہ کرو گے کہ اس وقت تمہاری جگہ محمد ؐ(صلی اللہ علیہ وسلم ) ہوں۔اور تم آرام سے اپنے بیوی بچوں میں بیٹھے ہو۔اُس نے جواب دیا کہ میں تو یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ میں آرام سے اپنے گھر میں بیٹھا رہوں۔اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پائوں میں مدینہ میں چلتے ہوئے کانٹا تک چبھے (السیرة النبویة لابن ہشام الجزء الثالث ذکر یوم الرجیع، مقتل ابن الدثنۃ و مثل من وفائہ للرسول)۔ایسے عزیز صحابہ ؓ کو دُکھ دے دے کر مار ا گیا۔اُن کی رو حیں اس وقت عالمِ خیال میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑی کہہ رہی تھیں کہ یہ لوگ ہمارے قاتل ہیں۔اب ان سے ہمارا انتقام لیا جائے۔مگر باوجود ان سب جذبات کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا تو یہی کہا کہ لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ۔جائو آج تم سے کوئی باز پرس نہیں کی جائےگی۔اتنے بڑے نمونہ کو دیکھتے ہوئے بھی اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ اسلام اپنے دشمنوں سے رواداری کی تعلیم نہیں دیتا تو اُس سے زیادہ نابینا اور کوئی شخص نہیں ہو سکتا۔اسلام کی ایسی روادارانہ تعلیم کا ہی یہ اثر تھا کہ اسلامی ملکوں میں اسلامی حکومتوں کے ماتحت غیر اقوام کے لوگ بڑے بڑے اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اور آپ کے خلفاء کے زمانہ میں اسلام ایک جنگی انتشار کی حالت میں سے گذر رہا تھا اور ابھی ایسی حکومت قائم نہیں ہوئی تھی جس میں تمام اقوام مل کر بس جانے کا فیصلہ کر تیں اس لئے بعض سیاسی حقوق کامل طور پر غیر مسلموں کو نہیں دئیے جا سکتے تھے مگر باوجود اس کے جہاں جہاں ممکن تھا اُن کو سرداری کے حقوق دئیے گئے ہیں چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مقنا کو جو خط لکھا اُس میں صاف طور پر یہ الفاظ پائے جاتے ہیں کہ لَیْسَ عَلَیْکُمْ اَمِیْرٌ