تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 152
ایسا شخص تھا جسے ان لوگوں نے کوئی ذاتی دُکھ نہیں دیا تھا۔لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ پر حملہ آور ہوئے تو اُن لوگوں کی غداری کی وجہ سے حملہ آور ہوئے تھے اور اُن دشمنوں پر حملہ کرنے گئے تھے جنہوں نے قریباً ربع صدی تک مسلمانوں پر ظلم کئے تھے۔جنہوں نے آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو مکی زندگی کے تیرہ سال سے ہر منٹ بلکہ ہر سیکنڈ میں مارنے اور ہلاک کرنے کی کوشش کی تھی اور اس کے بعد سات سال تک دو سو میل دُور جا کر وہ آپ کی تباہی کی کوشش کرتے رہے تھے مگر ان تمام مظالم کے باوجود جب آپ مکہ میں داخل ہوئے تو آپ نے اپنے عفو و کرم کا وہ نمونہ دکھایا جس کے مقابلہ میں ابراہیم لنکن کا نمونہ کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔آپ نے مکّہ والوں کو جمع کیا اور اُن سے پوچھا کہ بتائو اب تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے۔اگراُس وقت اُن کے جسموں کا قیمہ بھی کر دیا جاتا۔تو میں سمجھتا ہوں یہ اُن کے جرموں کے مقابلہ میں کافی سزا نہ تھی۔مگر جب انہوں نے کہا کہ ہم سے وہی سلوک کیا جائے جو یوسف ؑ نے اپنے بھائیوں کے ساتھ کیا تھا تو آپ نے فرمایا لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ جائو تمہیں معاف کیا جاتا ہے اور تمہیں کوئی ملامت نہیں کی جاتی۔یہ وہ خاتمہ ہے جو اس عظیم الشان جنگ کا ہوا۔جو آپ ؐ کے اور آپ کے دشمنوں کے درمیان بیس سال تک جاری رہی۔کیا اس نمونہ کے ہوتے ہوئے کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر مسلموں پر ظلم کیا اور انہیں تلوار کے زور سے اپنے مذہب میں داخل کرنے کی کوشش کی۔تعصب یا جہالت سے اعتراض کرنا اور بات ہے ورنہ جو شخص حقائق پر غور کرنے کا عادی ہو وہ یہ تسلیم کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر دنیا میں اپنے دشمنوں سے نیک سلوک کرنے والا اور کوئی شخص نہیں گذرا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حضرت یو سف ؑ نے بھی اپنے بھائیوں کو لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ کہا تھا۔مگر یوسف ؑ کے سامنے اُن کے اپنے بھائی کھڑے تھے جن کی سفارش کرنے والے اُن کے ماں باپ موجود تھے۔مگر وہ لوگ جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوئے آپ کے عزیزوں اور بھائیوں کے قاتل تھے۔حضرت حمزہ ؓ کو قتل کرنے والے کون لوگ تھے۔حضرت خدیجہ ؓ کی وفات کا باعث کون لوگ تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چہیتی بیٹی کو مارنے والے کون لوگ تھے جبکہ وہ حاملہ تھیں۔اور خاوند نے اس خیال سے کہ اسلام کی عداوت کی وجہ سے لوگ انہیں مکّہ میں تنگ کرتے ہیں مدینہ روانہ کر دیا تھا مگر کفّار نے راستہ میں انہیں سواری سے گِرا دیا جس سے اسقاط ہو گیا۔اور اسی وجہ سے بعد میں آپ کی وفات ہوگئی۔حضرت یوسف ؑ کے سامنے کون سے جذبات تھے۔سوائے اس کے کہ اُن کے بھائیوں نے ان کو وطن سے نکال دیا تھا۔مگر یہاں تو یہ حالت تھی کہ ابوطالب کی روح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے