تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 149
اعلان کر دیا کہ ’’ یہ مسجد صرف اور صرف خدا تعالیٰ کی عبادت کے لئے بنائی جاتی ہے تاکہ دنیا میں خدا تعالیٰ کی محبت قائم ہو اور لوگ مذہب کی طرف جس کے بغیر حقیقی امن اور حقیقی ترقی نہیں متوجہ ہوں۔اورہم کسی شخص کو جو خدا تعالیٰ کی عبادت کرنا چاہے ہر گز اس میں عبادت کرنے سے نہیں روکیں گے بشرطیکہ وہ اُن قواعد کی پابندی کر ے جو اس کے منتظم اس کے انتظام کے لئے مقرر کریں۔اور بشرطیکہ وہ اُن لوگوں کی عبادت میں مخل نہ ہوں جو اپنی مذہبی ضروریات کو پورا کرنےکے لئے اس مسجد کو بناتے ہیں۔‘‘ ( الفضل مورخہ ۲۰ نومبر ۹۲۴ا ء صفحہ ۵کالم نمبر ۱) مجھے یاد ہے ایک دفعہ قادیان میں آریوں کا جلسہ ہوا جس میں انہوں نے ہمارے خلاف بہت شور مچا یا۔جلسہ کے بعد اُن کے لیکچر ار مجھ سے ملنے آئے۔میں نے اُن سے کہا کہ میں نے سُنا ہے آپ کو جگہ کے متعلق تکلیف ہوئی۔آپ میرے پاس آتے میں اپنی مسجد میں انتظام کروا دیتا۔وہ کہنے لگے کیا آپ اپنی مسجد میں اس کی اجازت دے دیتے؟ میں نے کہا کیوں نہیں۔اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عیسائیوں کو اپنے طریق پر عبادت کرنے کی اجازت دے دی تھی تو میں آپ کو مسجد میں لیکچر کی اجازت کیوں نہیں دے سکتا۔اس پر اُن میں سے ایک نے کہا کہ اگر آپ اجازت دیں تو میں آج لیکچر دے سکتا ہوں۔میںنے کہا اجازت ہے۔چنانچہ مسجد اقصیٰ میں اس کا لیکچر ہوا جس میں مَیں بھی شامل ہوا۔اس کے بعد آریہ صاحبان کی موجود گی میں حافظ روشن علی ؓ صاحب مرحوم نے اُن کے اعتراضات کے جواب دیئے۔اس کا ایسا اثر ہوا کہ اُن کا جلسہ ہی بند ہو گیا اور شاید بارہ تیرہ سال کے بعد اُن کا دوبارہ جلسہ ہو ا۔غرض اسلام غیر مذاہب کے متعلق جس روادارانہ تعلیم کا حامل ہے۔اُس کی نظیر دنیا کا کوئی مذہب پیش نہیں کر سکتا۔(۳) غیر مذاہب سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سلو ک کی تیسری مثال یہ ہے کہ آپ اپنے ہمسائیوں سے خواہ وہ کسی مذہب و ملت سے تعلق رکھتے ہوں اچھا سلوک کر نے کا حکم دیتے تھے اور اس کے متعلق اتنا زور دیتے تھے کہ صحابہ ؓ ہر وقت اس کی پابندی ملحوظ رکھتے تھے۔چنانچہ لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ ایک دفعہ گھر میں آئے تو انہوں نے دیکھا کہ کہیں سے اُن کے ہاں گوشت آیا ہوا ہے۔انہوں نے گھر والوں سے پوچھا کہ کیا یہودی ہمسائے کو گوشت بھیجا ہے یا نہیں۔اور پھر آپ نے اس بات کو اتنی دفعہ دوہرایا کہ گھروالوں نے کہا۔آپ اس طرح کیوں کہتے ہیں انہوں نے کہا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سُنا ہے کہ جبرائیل نے اتنی دفعہ مجھے ہمسایہ کے حق کی تاکید کی کہ میں نے سمجھا شاید اسے وراثت میں شریک کر دیا جائےگا۔یہ عملی سلوک تھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جو آپ نے غیر مذاہب کے لوگوں سے روا رکھا۔آپ غیر مذاہب والوں کے احساسات کا بھی بے حد خیال رکھتے تھے۔ایک دفعہ حضرت ابوبکر ؓ کے سامنے کسی یہودی نے کہہ دیا کہ