تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 150
مجھے موسیٰ ؑ کی قسم جسے خدا نے سب نبیوں پر فضیلت دی ہے۔اس پر حضرت ابوبکر ؓ نے اُسے تھپڑ مارد یا۔جب اس واقعہ کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ملی تو آپ نے حضرت ابوبکر ؓ جیسے انسان کو زجر کی(بخاری کتاب الانبیاء باب وفاة موسیٰ و ذکرہ بعد)۔غور کرو مسلمانوں کی حکومت ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر حضرت موسیٰ ؑ کو ایک یہودی فضیلت دیتا ہے اور ایسی طرز سے کلام کرتا ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ جیسے نرم دل انسان کو بھی غصہ آجاتا ہے اور آپ اسے طمانچہ مار بیٹھتے ہیں۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ڈانٹتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ تم نے ایسا کیوں کیا۔اُسے حق ہے کہ جو چاہے عقیدہ رکھے۔(۴) آپ کے حسنِ سلوک کی چوتھی مثال یہ ہے کہ فتح خیبر کے موقعہ پر ایک یہودی عورت نے آپ کی دعوت کی اور اُس نے گوشت میں زہر ملا دیا۔آپ نے صرف ایک ہی لقمہ کھایا تھا کہ آپ پر وحی نازل ہوئی کہ اس میں زہر ہے اور آپ نے کھانے سے ہاتھ اُٹھالیا۔اس کے بعد آپ نے اس عورت کو بلایا اور فرمایا کہ اس کھانے میں تو زہر ہے۔اُس نے کہا آپ کو کس نے بتلایا۔آپ کے ہاتھ میں اُس وقت بکری کا دست تھا۔آپ نے اس کی طرف اشارہ کرتے ہو ئے فرمایاکہ اس ہاتھ نے مجھے بتایا ہے۔یہودن نے کہا میں نے یہ زہر اس لئے ملا یا تھا کہ اگر آپ واقعہ میں خدا تعالیٰ کے سچے نبی ہیں تو آپ کو یہ بات معلوم ہو جائےگی اور اگر جھوٹے ہیں تُو دنیا کو آپ کے وجود سے نجات حاصل ہو جائےگی۔مگر باوجود اس کے کہ اُس نے آپ کو زہر سے ہلاک کر نے کی کوشش کی اور باوجود اس کے کہ ایک صحابی ؓ اس زہر کی وجہ سے بعد میں فوت ہو گئے آپ نے اسے کوئی سزا نہ دی۔یہ کتنا بڑا نیک سلوک ہے جو آپ نے ایک ایسی دشمن عورت سے کیا جس نے آپ کی اور آپ کے جاں نثار صحابہ ؓ کی جان لینے کی کوشش کی اور اس طرح اسلام کو بیخ و بن سے اکھیڑنا چاہا۔(المواھب اللدنیة الجزء الثالث غزوة خیبر)۔(۵) آپ کے سلوک کی پانچویں مثال یہ ہے کہ جب آپ جنگ کے لئے جاتے تو سپاہیوں کو خاص طور حکم دیتے کہ کسی قوم کی عبادتگاہیں نہ گرائی جائیں۔اُن کے مذہبی پیشوائوں کو نہ مارا جائے۔عورتوں پر اور بوڑھوں پر اور بچوں پر حملہ نہ کیا جائے (بخاری کتاب الجھاد باب تحریم قتل النساء والصبیان فی الحرب)۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے پہلے یہ رواج تھا کہ پادریوں اور راہبوں کو مارڈالا جاتا تھا (تواریخ مسیحی کلیسیا ۳۳ سے ۶۰۰ م ص ۱۵۶۔۱۸۱)۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے قطعی طور پر روک دیا۔اگر آپ دوسرے مذاہب کے ایسے ہی دشمن ہوتے جیسے مخالفین آپ کو قرار دیتے ہیں تو کیا آپ یہ حکم دیتے کہ ان مذاہب کے رہنمائوں کو چھوڑ دیا جائے؟ آپ تو یہ کہتے کہ سب سے پہلے ان کو مارا جائے مگر آپ نے فرمایا۔جو تلوار لے کر حملہ کرتا ہے اُسے تو بے شک