تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 147 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 147

خاموش نہ رہے بلکہ فرمایا کہ یہ تمہارا اپنا اعلان ہے۔ہمارا نہیں اس طرح اُسے اشارۃً بتا دیا کہ اب ہم حملہ کر نے والے ہیں۔(۷) ساتویں۔پھر آپ نے مسلم اور غیر مسلم کے تمدنی حقوق ایک جیسے قرار دیئے اور یہ بات ایسی ہے جو صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم کی ہے۔آپؐ سے پہلے یہودیوں میں یہ حکم تھا کہ تم اپنے بھائیوں یعنی یہودیوں سے سود نہ لو۔دوسروں سے لے لیا کرو ( استثنا باب ۲۳ آیت ۱۹،۲۰ واحبار باب ۲۵ آیت ۳۵ تا ۳۷) مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سود نہ یہودیوں سے لو نہ عیسائیوں سے نہ مسلمانوں سے۔غرض کسی سے بھی سود نہ لو۔گو یا سب سے ایک سا سلوک کرنےکا حکم دیا ( بقرہ ع ۳۸) اس طرح رسول کریم ؐ نے تمدنی سلوک کے بارہ میں مسلم اور غیر مسلم کے امتیاز کو اڑا دیا (بخاری کتاب المغازی باب قول اللہ تعالیٰ و یوم حنین اذ أعجبتکم)۔(۸) آٹھویں تعلیم آپ نے یہ دی کہ غلاموں کی آزادی میں بھی مسلم اور غیر مسلم کا کوئی امتیاز روانہ رکھا جائے۔چنانچہ جنگ حنین کے موقعہ پر سینکڑوں غلام جو پکڑے آئے۔باوجود اس کے کہ وہ دشمن تھے آپؐ نے انہیں آزاد کر دیا۔(۹) نویں تعلیم غیر مسلموں کے متعلق آپ نے یہ دی کہ جہاں اسلامی حکومت ہو وہاں مسلمانوں پر زیادہ بوجھ رکھا جائے اور دوسروں پر کم۔چنانچہ اسلامی احکام کے ماتحت ضروری ہے کہ ( ۱) مسلمان لڑائی میں شامل ہوں ( ۲) عشر یعنی دسواں حصہ پیداوار کا دیں ( ۳) زکوٰۃ دیں لیکن غیر مسلموںکے لئے صرف 2 1/2روپیہ کے قریب فی کس ٹیکس رکھا گیا ہے جو مسلمانوں کے مقابلہ میں بہت کم ہے۔او ر پھر لڑائی میں انہیں آزادی دی گئی ہے۔سوائے اس کے کہ مسلمانوں سے اجازت لےکر اپنی خوشی سے وہ لڑائی میں شامل ہو جائیں (ابو داؤد کتاب الخراج والفی ء والامارة باب فی اخذ الجزیة )۔غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر مسلموں کے متعلق ایسی روا دارانہ تعلیم دی ہے جس کی مثال دنیا کا کوئی اور مذہب پیش نہیں کر سکتا۔اب میں یہ بتا تا ہوں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر مذاہب کے پیرؤوں کے متعلق عملی رنگ میں کیا نمونہ پیش کیا۔سو اس بار ہ میں جب ہم تاریخ پر غور کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ (۱) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر اقوام کے نیک انسانوں کا عملاً احترام کیا ہے۔چنانچہ لکھا ہے کہ جب طے قبیلہ سے جنگ ہوئی تو کچھ مشرک بطور قیدی پکڑے آئے۔اُن میں حاتم طائی کی بیٹی بھی تھی۔اُس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ جانتے ہیں میں کس کی بیٹی ہوں۔آپؐ نے فرمایا کس کی بیٹی ہو۔اُس نے کہا