تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 146 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 146

دے۔آپ نے فرمایا جب تم کسی کے باپ کو گالیاں دو گے تو وہ تمہارے باپ کو گالیاں دے گا اور اس طرح تم خود اپنے باپ کو گالیاںدلوانے والے سمجھے جائو گے (صحیح بخاری کتاب الادب باب لا یسب الرجل والدیہ)۔(۵) پانچویں ہدایت آپ نے یہ فرمائی کہ صرف مذہب کے اختلاف کی وجہ سے کسی قوم پر حملہ نہیں کرنا چاہیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے عام طور پر یہ سمجھا جاتا تھا کہ جس قوم سے مذہبی اختلاف ہو اُس پر حملہ کر کے اس کو تباہ کرنا جائز ہوتا ہے۔لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بالکل خلاف حکم دیا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ ؐکے ذریعہ اعلان فرمایا کہ وَقَاتِلُوا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْ نَکُمْ وَلَا تَعْتَدُوْا (البقرۃ :۱۹۱ ) یعنی تم جنگ تو کر سکتے ہو مگر صرف انہی سے جو تم پر حملہ آور ہوں۔مذہب کے اختلاف کی وجہ سے کبھی کسی پر حملہ نہ کرنا اس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حربی غیر مسلموں کو بھی حریت ضمیر عطا کی اور بتا یا کہ خواہ کسی کا کوئی مذہب ہو۔اُس کی وجہ سے کسی دوسرے کو یہ حق حاصل نہیں کہ اُسے مارے یا نقصان پہنچائے۔( ۶) چھٹا حق آپ نے غیر مسلم اقوام کا یہ قرار دیا کہ فرمایا خواہ کسی قوم سے عہد ہو تمہارا فرض ہے کہ تم اُسے قائم رکھو۔لوگوں کو یہ بہت بڑی غلطی لگی ہوئی ہے اور اس غلطی میں وہ مسلمان بھی مبتلا ہیں جو قرآن کریم پر تدبر نہیں کرتے کہ غیروں سے جو عہدہو اُسے توڑ دینا کوئی حرج کی بات نہیں ہوتی۔حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے خلاف حکم دیا ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِيَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَيْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْخَآىِٕنِيْنَ۠( الانفال :۵۹) کہ اگر کوئی قوم عہد توڑ دے تو اُسے بتا دینا چاہیے کہ تم نے عہد توڑ دیا ہے اب ہم پر بھی عہد کی پابندی نہیں یونہی اس پر حملہ نہیں کر دینا چاہیے۔چنانچہ ابو سفیان جب صلح حدیبیہ کے بعد مکہ میں آیا اور اُس نے کہا کہ اب میں نئے سرے سے معاہدہ کرتا ہوں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ابو سفیان تم نے یہ اعلان اپنی طرف سے کیا ہے۔میں نے نہیں کیا۔اور اس طرح اُسے بتا دیا کہ اب ہم تم پر حملہ کریں گے(السیرة النبویة لابن ہشام ذکر الاسباب الموجبة المسیر الی مکة و ذکر فتح مکة )۔اس کے مقابلہ میں آج کل جب کسی ملک پر حملہ کرنا ہوتا ہے تو اس قسم کے اعلان کئے جاتے ہیں کہ فلاں حکومت سے ہمارے بڑے اچھے تعلقات ہیں چنانچہ اٹلی نے جب ٹر کی پر حملہ کیا تو اس حملہ سے تین دن پہلے یہ اعلان کیا گیا کہ ٹرکی کے ساتھ ہمارے آجکل ایسے اچھے تعلقات ہیں کہ اس قسم کے تعلقات پہلے کبھی نہیں ہوئے۔یہ اعلان صرف اس لئے کیا گیا کہ ٹرکی غافل رہے اور اس پر اچانک حملہ کر دیا جائے۔مگر ابو سفیان نے جب اعلان کیا تو اُس وقت رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم اگر خاموش بھی رہتے تب بھی آپؐ پر کوئی ذمہ داری عائد نہ ہوتی۔کیونکہ مکہ والے معاہدہ توڑ چکے تھے۔مگر آپ