تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 11 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 11

کہ خدائے پاک نے یہ فرقان جس سے حق و باطل میں فیصلہ کیا جاتا ہے اپنے مختلف طبیعتوں والے بندوں پر نازل کیا ہے۔تاکہ یہ کتاب تمام مخلوق کے لئے ڈرانے والی ثابت ہو گویا یہ ایک ایسی کتاب ہے جس سے ہر فطرت کا آدمی فائدہ اٹھا سکتا اور ہر مذاق کا انسان نصیحت حاصل کر سکتا ہے۔یہ بظاہر ایک مختصر سی آیت ہے جس سے سورۂ فرقان کا آغاز کیا گیا ہے لیکن اگر غور سے کام لیا جائے تو اس چھوٹی سے آیت میں ہی مسلمانوںکے لئے ایک وسیع اور مکمل لائحہ عمل بیان کر دیا گیا ہے۔یوں تو کروڑوں مسلمان دنیا میں ایسے پائے جاتے ہیں جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں لیکن محض نام رکھ لینے سے کسی چیز کے اندر وہ حقیقت پیدا نہیں ہو جاتی جس حقیقت کا اصل چیز کے اندر پایا جانا ضروری ہوتا ہے۔ہماری زبان کا یہ محاورہ تو نہیں مگر اردو زبان میں اسے عام طور پر استعمال کیا جاتا ہے کہ ؎ برعکس نہند نامِ زنگی کا فور (اردو لغت جلد دوم زیر لفظ برعکس صفحہ ۹۶۹ ترقی اردو بورڈ کراچی) یعنی فلاں بات ایسی ہی حقیقت کے خلاف ہے جیسے کسی حبشی کا نام کا فور رکھ دیا جائے۔حالانکہ حبشی اپنی سیاہی میں بے مثل ہوتا ہے اور کافور اپنی سفیدی میں بے مثل ہوتا ہے۔اسی طرح ہمارے ملک کا ایک شاعر کہتا ہے کہ دنیا بھی عجیب مقام ہے جس میں ہر ایک بات اُلٹی نظر آتی ہے۔وہ کہتا ہے ؎ رنگی کو نارنگی کہیں بنے دودھ کو کھویا چلتی ہوئی کو گاڑی کہیں دیکھ کبیرا رویا یعنی نارنگی جو ایک خوش رنگ رکھتی ہے لوگ اس کو نارنگی کہتے ہیں جس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ اس کا کوئی رنگ نہیں۔او ر دودھ جب اپنے کمال کو پہنچ جاتا ہے تو اُسے کھویا کہتے ہیں حالانکہ کھوئی ہوئی چیز وہ ہوتی ہے جو ضائع ہو جائے۔اسی طرح جو چیز چلتی ہے لوگ اُس کو گاڑی کہتے ہیں۔حالانکہ گڑی ہوئی چیز وہ ہوتی ہے جو چل نہ سکے۔کبیر کہتا ہے کہ دنیا کی یہ اُلٹی باتیں دیکھ کر میرے دل کو بہت دُکھ ہوا کہ یہ دنیا کتنی غیر معقول ہے کہ ہر چیز کا الٹا نام رکھتی ہے۔کیا اس کی آنکھیں بھینگی ہو گئی ہیں کہ اُسے سیدھی چیز بھی اُلٹی نظر آتی ہے۔اسی طرح جہاں تک نام کا سوال ہے کوئی نام رکھ لیا جائے خواہ وہ مسلمانوں والا ہو یا ہندوؤں والا ہو یا بدھوں والا ہو یا پارسیوں والا ہو اُس نام کی وجہ سے مذہب کی حقیقی رُوح انسان میں پیدا نہیں ہو جاتی۔دنیا میں ہزاروں لوگ ایسے ہیں جو اپنے آپ کو ہندو یا مسلمان یا بدھ یا پارسی کہتے ہیں لیکن اُن کی زندگی۔اُن کے افکار اُن کے رہنے سہنے کی عادات اور اُن کے لباس کو دیکھا جائے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ عیسائی ہیں۔لیکن جب اُن کے نام معلوم