تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 10 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 10

اَلْعَالَمِیْنَ کی تشریح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نزدیک حضرت مسیح موعود ؑ بھی تحریر فرماتے ہیں۔اَنَّ الْعَالَمِیْنَ عِبَارَۃٌ عَنْ کُلِّ مَوْجُوْدٍ سِوَی اللّٰہِ … سَوَائً کَانَ مِنْ عَالَمِ الْاَرْوَاحِ اَوْمِنْ عَالَمِ الْاَجْسَاِم… اَوْ کَالْشَّمْسِ وَالْقَمَرِ وَغَیْرِ ھِمَا مِنَ الْاَجْرامِ (اعجاز المسیح۔روحانی خزائن جلد۱۸صفحہ ۱۳۹،۱۴۰) یعنی عالم سے مراد جاندار اور غیر جاندار سب اشیاء ہیں۔اسی طرح سورج، چاند وغیرہ کی قسم کے اجرام فلکی۔غرض سب جاندار یا غیر جاندار اس میں شامل ہیں۔جو صرف ذوی العقول کے لئے اسے قرار دیتے ہیں۔وہ مَا ھُوَ اِلَّا ذِکْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ(القلم :۵۳) کی آیت سے استدلال کرتے ہیں مگر یہ استدلال درست نہیں۔کیونکہ جب اس کا استعمال غیر ذوی العقول کے لئے قرآن کریم میں موجود ہے تو اس آیت کے متعلق صرف یہ کہا جائے گا کہ عام لفظ خاص معنوں میں استعمال ہوا ہے چنانچہ قرآن کریم میں یہی لفظ اس سے بھی خاص معنوں میں استعمال ہوا ہے فرماتا ہے وَ اَنِّيْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعٰلَمِيْنَ(البقرۃ :۴۸) اے یہود ہم نے تم کو سب جہانوں پر فضیلت دی ہے حالانکہ مراد صرف اپنے زمانہ کے لوگ ہیں نہ کہ ہر زمانہ کے لوگ۔کیونکہ خیر الامم مسلمانوں کو کہا گیا ہے۔پس خاص معنوں کا استعمال جبکہ عام معنوں میں یہ لفظ استعمال ہو چکا ہے اس کے معنوں کو محدود نہیں کرتا۔اور حق یہی ہے کہ عَالَمِیْن میں ہر قسم کی مخلوق شامل ہے۔خواہ جاندار ہو یا غیرجاندار۔نَذِیْرًا: نذیر کے معنے اَلْاِنْذَارُ یعنی ڈرانے کے ہیں۔نیز اس کے معنے ہیں اَلْمُنْذِرُ۔ڈرانے والا اَلرَّسُوْلُ رسول ( اقرب) قَدَّرَہٗ: قَدَّرَہُ عَلَی الشَّيْءِ کے معنے ہیں۔جَعَلَہٗ قَادِرًا۔اس کو کسی چیز پر قادر بنا دیا اور قَدَّرَ الشَّیْءَ بِالشَّیْءِ کے معنے ہوتے ہیں قَاسَہٗ بِہٖ وَجَعَلَہٗ عَلیٰ مِقْدَارِہٖ۔کسی چیز کا صحیح اندازہ کیا اور اس کو اُس مقدار پر بنا یا جو درست اور صحیح تھی۔نیز کہتے ہیں قَدَّرَ فُلَانٌ اور معنے ہوتے ہیں رَوَّی وَفَکَّرَفِیْ تَسْوِیَۃِ اَمْرِہٖ کہ اس نے اپنے مجوزہ کا م کے بارے میں غورو فکر کیا تاکہ اس کو مکمل طور پر بنا سکے۔( اقرب ) تفسیر۔ا س آیت میں توجہ دلائی گئی ہے کہ قرآن کریم کو نازل کرنے والا خدا تمام خوبیوں کا جامع اور تمام عیبوں سے پاک ہے اور اس نے ایک ایسی کتاب نازل کی ہے جو حق و باطل میں تمیز کرکے رکھ دیتی ہے اور پھر اس نے یہ کتاب اپنے تمام بندوںکے لئے اتاری ہے خواہ وہ کسی درجہ ٔ عقل کے مالک ہوں یا کسی قسم کا رجحان رکھنے والے ہوں چنانچہ حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےنَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰى عَبْدِهٖ کی جگہ عَلیٰ عِبَادِہٖ بھی پڑھا ہے ( تفسیر بحر محیط زیر آیت ھذا)جس میں انہی معنوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے