تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 145 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 145

کر ہی مانتے ہیں۔چنانچہ قرآن کریم میں یہودیوں کے متعلق آتا ہے کہ اُن میں سے بعض ایسے ہیں کہ اگر اُن کے پاس ڈھیروں ڈھیر مال بھی امانت رکھوا دیا جائے تو وہ اس میں خیانت نہیں کریں گے ( آل عمران ع ۸) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودیوں میں ایسے لوگ موجود تھے جو اپنے مذہب کو سچا سمجھ کر مانتے تھے۔اسی طرح عیسائیوں کے متعلق قرآن کریم میں آتا ہے کہ اُن میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو خدا تعالیٰ کا ذکرسن کر رونے لگ جاتے ہیں اور خشیت سے اُن کے دل بھر جاتے ہیں ( المائدۃ ع ۱۱)کیا ایسے لوگ اپنے مذہب کو فریب سے ماننے والے ہو سکتے ہیں ؟ حقیقت یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تعلیم دے کر اپنی امت کو بتا یا ہے کہ انہیں دوسرے مذاہب کے پیروؤں کے احساسات کا ہمیشہ احترام کرنا چاہیے کیونکہ خواہ وہ جھوٹے مذاہب کے پیرو ہوں مگر بہر حال وہ انہیں سچا سمجھ کر اُن کے پیچھے چل رہے ہیں۔(۳) تیسرے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کی تمام اقوام کے متعلق اصولی طور پر یہ تعلیم دی کہ اُن میں اللہ تعالیٰ کے انبیاء مبعوث ہوتے رہے ہیں چنانچہ آپ نے فرمایا۔وَ اِنْ مِّنْ اُمَّۃٍ اِلَّا خَلَا فِیْھَا نَذَیْرٌ (الفاطر :۲۵) یعنی دنیا کی کوئی قوم ایسی نہیں جس میں خدا تعالیٰ کا کوئی نبی نہ آیا ہو۔اس تعلیم کے ذریعہ چونکہ سب اقوام کے نبیوں کے تقدس کو قبول کر لیا گیا ہے اس لئے وہ منافرت جو دائرہ ہدایت کو محدود کر نے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے دل سے دُور ہو جاتی ہے اور انسان عقیدۃً اس امر کو تسلیم کر لیتا ہے کہ سب مذاہب کی اصل سچائی پر مبنی ہے۔اور مختلف مدارج میں ہدایت دوسرے مذاہب میں بھی پائی جاتی ہے۔کیونکہ اُن کی ابتداء خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوئی تھی۔پس بندوں نے ان مذاہب کو خواہ کتنا بھی بگاڑ دیا ہو پھر بھی خدا تعالیٰ کی ہدایت میں سے کچھ نہ کچھ اُن کے پا س ضرور موجود ہے۔اس لئے باوجود اختلاف کے مجھے اُن سے اتحاد رکھنا چاہیے اور انہیں محبت اور پیار کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے۔(۴) چوتھی تعلیم آپ نے یہ دی کہ جب کسی قسم کی مذہبی بحث ہو تو جوش میں آکر گالیوں پر نہ اُتر آئو۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔لَا تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَیَسُبُّوا اللّٰہَ عَدْوًا بِغَیْرِ عِلْمٍ ( انعام :۱۰۹ ) یعنی جب تمہاری دوسری قوموں سے بحث ہو تو وہ ہستیاں جنہیں تم نہیں مانتے خواہ انہیں خدا کے مقابلہ میں پیش کیا جاتا ہو۔پھر بھی انہیں بُرا بھلا نہ کہو ورنہ وہ بھی اس خدا کو گالیاں دینے لگیں گے جسے تم مانتے ہو۔اور اس طرح تم خدا تعالیٰ کو گالیاں دلوانے کا موجب ہو جائو گے جیسے رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص اپنے باپ کو گالی نہ دے۔صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! کیا کوئی شخص ایسا بھی ہو سکتا ہے جو اپنے باپ کو گالیاں