تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 144
اس آیت سے ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ اسلام غیر مذاہب سے کس قدر رواداری کی تعلیم دیتا ہے اور مذہبی معاملات میں انہیں کس قدر آزادی عطا کرتا ہے۔مگر افسوس ہے کہ اسلام کی اس روشن تعلیم کے ہوتے ہوئے یورپین مستشرقین نے انتہائی ظلم سے کام لیتے ہوئے بانی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ اعتراض کیا ہے کہ آپ کا غیر مذاہب سے سلوک جبرو تشدد پر مبنی تھا اور آپ کا مذہب تلوار کا مذہب تھا (تفسیر القرآن الکریم ویری جلد اول صفحہ ۳۵۸)۔حالانکہ مذہبی رواداری پر اسلام نے اس قدر زور دیا ہے کہ جس کی نظیر کسی اور جگہ نہیں پائی جاتی۔( ۱) آپ کی بعثت سے پہلے دنیا میں عام طور پر یہ سمجھا جاتا تھا کہ جب تک غیر مذاہب والوں کو کلی طور پر جھوٹا ثابت نہ کر لیا جائے اپنے مذہب کی سچائی ثابت نہیں ہوسکتی۔مگر اسلام نے اس نظریہ کو غلط قرار دیا۔چنانچہ اسلام جہاں اپنی خوبیوں کو پیش کرنےکا حکم دیتا ہے وہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے نہایت واضح طور پر یہ بھی تعلیم دی ہے کہ کسی دوسرے کی خوبی کا انکار نہیں کرنا چاہیے۔اور یہ بھی کہ ہر مذہب میں کچھ نہ کچھ خوبیاں ہیں جن کا انکار کرنا سراسر ظلم ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَقَالَتِ الْیَھُوْدُ لَیْسَتِ النَّصَارٰی عَلیٰ شَيْءٍ وَّقَالَتِ النَّصَارٰی لَیْسَتِ الْیَھُوْدُ عَلیٰ شَيْءٍ وَّ ھُمْ یَتْلُوْنَ الْکِتٰبَ ( البقرۃ :۱۱۴) یعنی یہ کیسے ظلم کی بات ہے کہ عیسائی کہتے ہیں یہودیوں میں کوئی خوبی نہیں اور یہودی کہتے ہیں عیسائیوں میں کوئی خوبی نہیں حالانکہ وہ دونوں ایک ہی کتاب پڑھنے والے ہیں۔اور دونوں میں کچھ نہ کچھ خوبیاں پائی جاتی ہیں۔یعنی چاہیے تو یہ تھا کہ یہودی عیسائیوں کی خوبیوں کو تسلیم کرتے اور عیسائی یہودیوں کی خوبیوں کو تسلیم کرتے۔نہ یہ کہ یہودی عیسائیوں کے متعلق کہنا شروع کردیتے کہ اُن میں کوئی خوبی نہیں اور عیسائی یہودیوں کے متعلق کہنا شروع کر دیتے کہ اُن میں کوئی خوبی نہیں بالخصوص ایسی صورت میں جبکہ وہ دونوں ایک ہی کتاب کے حامل ہیں۔غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کو یہ تعلیم دی کہ دوسروں کی خوبیوں کو تسلیم کرنا چاہیے۔جو شخص یہ کہتا ہے کہ دوسرے مذاہب میں کوئی خوبی ہی نہیں وہ اپنی نابینائی کا مظاہر ہ کرتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ایسی اعلیٰ درجہ کی تعلیم دی ہے کہ اس کے ذریعہ آپ نے تمام اقوام کے دل رکھ لئے ہیں۔کسی کے مذہب کے متعلق یہ کہنا کہ اس میں کوئی بھی خوبی نہیں اس مذہب کے پیرؤوں کے لئے سخت تکلیف دہ بات ہوتی ہے پس اس کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اصل پیش فرمایا کہ ہر قوم کی خوبی کو تسلیم کرو۔اور اس طرح آپ نے دنیا کی تمام اقوام اور مذاہب پر بہت بڑا احسان کیا۔(۲)پھر آپ نے فرمایا کہ کسی مذہب کے پیرؤوں کے متعلق یہ نہ کہو کہ وہ اپنے مذہب کو دھوکا اور فریب سے مانتے ہیں بلکہ باوجود اس کے کہ پہلے مذاہب بگڑ چکے ہیں۔اُن کے ماننے والوں میں سے اکثر انہیں دل سے سچا سمجھ