تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 139
مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مسلمانوں کا ایک طبقہ ایسا ہے جو کھانے پینے پہننے اور تمدن و معاشرت سے تعلق رکھنے والے کئی امور میں مغربیت کی نقل کرتا اور اس نقل میں خوشی اور فخر محسوس کر تا ہے۔اسی طرح بعض احمدی نوجوان باوجود سمجھانے کے اس طرف جا رہے ہیں۔یہ لوگ صرف نام کے احمدی ہیں۔حقیقی احمدی نہیں مجھے یاد ہے۔ایک دفعہ بعض غیر احمدیوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے سوال کیا کہ شادی بیاہ اور دوسرے معاملات میں آپ اپنی جماعت کے لوگوں کو کیوں اجازت نہیں دیتے کہ وہ ہمارے ساتھ تعلقات قائم کریں۔آپ نے فرمایا اگر ایک مٹکا دودھ کا بھرا ہوا ہو اور اُس میں کھٹی لسی کے تین چار قطرے بھی ڈال دئیے جائیں تو سارا دودھ خراب ہو جاتا ہے۔مگر لوگ اس حکمت کو نہیں سمجھتے کہ قوم کی قوتِ عملیہ کو قائم رکھنے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ اُسے دوسروں سے الگ رکھا جائے۔اور ان کے بد اثرات سے اُسے بچا یا جائے آخر ہم نے دشمنانِ اسلام سے رُوحانی جنگ لڑنی ہے اگر اُن سے مغلوب اور اُن کی نقل کرنے والے لوگوں سے ہم مل جل کر رہیں تو نتیجہ یہ ہوگا کہ ہم بھی یورپ کے نقال ہو جائیں گے اور ہم بھی جہاد قرآنی سے غافل ہو جائیں گے۔پس خود اسلام اور مسلمانوں کے فائدہ کے لئے ہمیں دوسری جماعتوں سے نہیں ملنا چاہیے۔تاکہ ہم غافل ہو کر اپنا فرض جو تبلیغ اسلام کا ہے بھول نہ جائیں جس طرح دوسرے مسلمان بھول گئے ہیں۔اسلام میں پہلے ہی سپاہیوں کی کمی ہے۔اگر تھوڑے بہت سپاہی جو اُسے میسر ہیں وہ بھی سُست ہو جائیں تو انہوں نے اسلام کی طرف سے دشمنوں کا کیا مقابلہ کرنا ہے۔جن دنوں ام طاہر ؓکی بیماری کے سلسلہ میں مَیں لاہور میں ٹھہرا ہو اتھا ایک روز رات کے دس بجے ایک غیر احمدی مولوی مجھ سے ملنےکے لئے آیا اور کہنے لگا کہ آپ کی جماعت بڑی اچھی ہے اور اسلام کی بڑی بھاری خدمت کر رہی ہے۔لیکن صرف ایک خرابی ہے جو نہیں ہونی چاہیے اور وہ یہ کہ آپ ہم سے نہیں ملتے نہ ہمارے پیچھے نمازیں پڑھتے ہیں اور نہ ہمیں رشتے دیتے ہیں۔اگر یہ خرابی دُور ہو جائے تو پھر آپ کی جماعت سے بہتر اور کوئی جماعت نہیں۔میں نے کہا مولوی صاحب یہ لوگ جن کی آپ تعریف کر رہے ہیں یہ آپ لوگوں میں سے ہی نکل کر آئے ہیں یا کہیں اور سے آئے ہیں جب یہ آپ لوگوں میں سے ہی نکل کر آئے ہیں اور مرزا صاحب کی تعلیم نے ان میں اتنی بڑی تبدیلی پیدا کر دی ہے تو کیا آپ چاہتے ہیں کہ پھر یہ دوسرے مسلمانوں کے ساتھ مل کر ویسے ہی بے عمل ہو جائیں جیسے وہ ہیں۔وہ آدمی سمجھدار تھا کہنے لگا۔اب میں سمجھ گیا ہوں۔آپ مسلمانوں سے بالکل نہ ملئیے اور علیٰحدہ ہی رہئیے۔اگر آپ کی جماعت کے لوگ پھر اُن سے جاملے تو اسلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کو پھیلانے کی جو جدو جہد آپ کی جماعت کر رہی ہے وہ بھی جاتی رہے گی۔اور اسلام کی تبلیغ ختم ہو جائے گی۔اب کم از کم کوئی