تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 138 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 138

تمام ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔اور یہ حملہ اپنی کمیت اور کیفیت کے لحاظ سے بے مثال ہے پہلے حملوں میں آدمی کم ہوتے تھے اور پھر وہ متفرق طورپر حملہ کر تے تھے۔ایرانی اور رنگ میں حملہ کرتا تھا اور جاپانی اور رنگ میں۔مگر اب تمام دنیا متفقہ طور پر حملہ کرتی اور ایک ہی محاذ پر جنگ لڑتی ہے۔پھر پہلے حملے فلسفہ تک محدود تھے مگر اب جتنے رائج الوقت علوم ہیں اُن سب کو استعمال کیا جاتا ہے۔پس اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس فتنہ کے برابر دنیا کا اور کوئی فتنہ نہیں۔آج دجالی فتنہ جس رنگ میں دنیا پر غالب ہے اس کی وجہ سے کوئی چیز بھی اسلام کی باقی نہیں رہی۔نہ اس کے تمدنی احکام قائم ہیںنہ سیاسی احکام قائم ہیں نہ اقتصادی احکام قائم ہیں اور نہ شخصی احکام قائم ہیں۔ہر چیز میں آج تبدیلی کر دی گئی ہے۔پس جب تک اسے مٹانےکے لئے ہمارے اندر دیوانگی نہ ہوگی۔جب تک ہمیں اس تہذیب ِ مغربی سے بغض نہ ہوگا۔اتنا بغض کہ اس سے بڑ ھ کر ہمیں کسی اور چیز سے بغض نہ ہو اُس وقت تک ہم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ہم میں سے جو شخص بھی مغربی تہذیب کا دلدادہ ہے وہ روحانی میدان کا اہل نہیں۔جس تہذیب نے ہمارے مقدس آقا کی تصویر کو دنیا کے سامنے بھیانک رنگ میں پیش کیا ہے۔جس تہذیب نے اسلامی تمدن کی شکل کو بدل دیا ہے جب تک اُس کی ایک ایک اینٹ کو ہم ریزہ ریزہ نہ کردیں کبھی چین اورا طمینان کی نیند نہیں سو سکتے۔وہ لوگ جو یورپ کی نقالی کرتے اور مغربیت کی رَو میں بہتے چلے جاتے ہیں وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ہمارے تن بدن میں تو اُن کی ایک ایک چیز کو دیکھ کر آگ لگ جانی چاہیے کیونکہ اسلام اور مغربیت ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے۔یا اسلامی ثقافت زندہ رہےگی یا مغربیت زندہ رہے گی۔دونوں کی بنیاد یں متضاد اصول پر ہیں اور اُن کا ایک ہی جگہ جمع ہونا ناممکن ہے۔مغربیت کی بنیاد ساری کی ساری دنیاوی لذّات اور عیش پر ستی پر ہے اور اسلام کی بنیاد کلی طور پر اللہ تعالیٰ کی رضامندی۔روحانیت اور اخلاق کی درستی پر ہے۔اس لئے ان دونوں کا اجتماع ناممکن ہے۔مگر یہ امر یاد رکھو کہ انگریز اور مغربیت میں فرق ہے۔انگریز انسان ہیں اور ویسے ہی انسان ہیں جیسے ہم اور اس لحاظ سے انگریز ہدایت پاسکتے ہیں لیکن مغربیت ہدایت نہیں پا سکتی۔وہ شیطان کا ہتھیار ہے اور جب تک اُسے توڑا نہیں جائےگا دنیا میں حقیقی امن قائم نہیں ہو سکتا۔یہی وہ برزخ ہے جس کو قائم رکھنےکے لئے میں تحریک جدید کے ذریعہ جماعت کے دوستوں کو توجہ دلا رہا ہوں کہ وہ مغربی اثرات کو کبھی قبول نہ کریں جو احمدی میٹھے پانی کا طلب گار ہے وہ ضرور اُن سے الگ رہے گا۔اور یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ کڑوا اور میٹھا پانی ایک دوسرے میں جذب ہو جائیں۔اسی طرح میں سمجھتا ہوں کہ جو غیر احمدی ہیں وہ خواہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام پر ایمان نہ لائیں پھر بھی اُن کا فرض ہے کہ وہ مغربیت کی کبھی نقل نہ کریں۔کیونکہ یہ مسیح موعود ؑ کی تعلیم نہیں یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بلکہ اُن کے بھیجنے والے خدا کی تعلیم ہے۔