تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 137
ہی تھا یعنی ایک وقت میں ایک ہی بدی سارے عالم میں پھیلی ہوئی نہ تھی۔کسی ملک میں کوئی بدی ہوتی تھی اور کسی ملک میں کوئی۔اگر ہندوستان میں دہریت کی رَو تھی تو ایران میں بد عملی کی رو تھی۔یونان میں فلسفہ کی رو تھی تو مصر میں مشرکانہ خیالات کی روتھی۔پس اُن کے اعتراضات میں یکسانیت نہیں تھی اور مخالفت میں تنظیم نہیں پائی جاتی تھی۔لیکن اس زمانہ میں تمام خیالات ایک ر و اور ایک ہی سلک کے ماتحت ہیں۔جہاں سے بھی کوئی تحریک اٹھتی ہے اس کا مقصد ایک ہی ہوتا ہے اور وہ یہ کہ دنیا کو خدا سے دُور کر دیا جائے۔اور مادیت کی طرف اُسے مائل کیا جائے ،چین ، جاپان ، سائبیریا ،ا یران ،ا فغانستان جہاں جائو وہاں یہی مرض دکھائی دےگا۔ہر شخص دنیا کو دین پر مقدم کر رہا ہوگا۔اور ہر شخص کی یہ کوشش ہو گی کہ دنیا سے خدا تعالیٰ کی محبت کو مٹا دیا جائے۔یہ چیز پہلے کبھی ساری دنیا میں ایک وقت میں نہیں پائی جاتی تھی۔دوسری چیز جو امتیازی رنگ رکھتی ہے وہ یہ ہے کہ پہلے جتنے حملے ہوتے تھے وہ فلسفیانہ ہوتے تھے۔اور فلسفہ کی نبیاد واہمہ اور خیال پر ہے۔مگر اس وقت جتنے حملے ہوتے ہیں وہ سائنس کی بنا ء پر ہوتے ہیں اور سائنس کی بنیاد مشاہدہ پر ہے۔فلسفیانہ اعتراضات کے جواب میں تو انسان بڑی دلیری سے کہہ سکتا ہے کہ یہ تمہارے ڈھکو سلے ہیں لیکن مشاہدہ پر بنیاد رکھتے ہوئے جب کوئی سوال پیش کیا جائے تو اس کا جواب دینا مشکل ہو جاتا ہے۔یہ کہنا کہ اس دنیا کی زندگی ہی اصل زندگی ہے مرنے کے بعد جو کچھ ہوتا ہے وہ کس نے دیکھا کہ وہاں آرام و آسائش میّسر آسکے گی۔ایک فلسفیانہ خیال ہے اور اسے سن کر ایک انسان متاثر تو ہو سکتا ہے مگر دوسرا شخص یہ بھی تو کہہ سکتا ہے کہ یہ تو درست ہے کہ اگلے جہان کا ثواب اور عذاب کسی نے نہیں دیکھا لیکن اگلے جہان میں ثواب اور عذاب کا نہ ملنا بھی تو تم نے نہیں دیکھا۔اس لئے دونوں نظریات سائنس کے لحاظ سے برا بر حیثیت رکھتے ہیں لیکن ذرات ِ عالم کی بناوٹ پر اپنے خیالات کی بنیاد رکھتے ہوئے اور یہ ثابت کر تے ہوئے کہ دنیا کا ذرہ ذرہ ایک ایسی تنظیم کی صورت رکھتا ہے کہ کارخانۂ عالم خود بخود چلتا چلا جاتا ہے۔جب کہا جائے کہ اس دنیا کو چلانےکے لئے کسی بیرونی ہستی کی ضرورت نہیں تو یہ سوال ایک نیا رنگ اختیار کر لیتا ہے جو پہلے وسوسہ میں نہیں تھا۔پھر پہلے خدا تعالیٰ کے وجود کے خلاف صرف فلسفی کھڑے ہوا کرتے تھے۔مگر اب علم النفس والے بھی کھڑے ہیں۔علمِ طبقات الارض والے بھی کھڑے ہیں۔علمِ ہئیت والے بھی کھڑے ہیں۔غرض تمام علوم مشترکہ طور پر اسلام کے خلاف پیش کئے جاتے ہیں اور یہ حملہ پہلے سے بہت زیادہ سخت ہے۔پہلے یہ سمجھ لیا جاتا تھا کہ ایک فلسفی نے خدا تعالیٰ کی ہستی کا انکار کیا ہے نہ معلوم اُس کے قول میں سچائی بھی ہے یا نہیں۔مگر اب یہ کہا جاتا ہے کہ جس رنگ میں بھی دیکھو یہی نتیجہ نکلے گا کہ نعوذ باللہ خدا نہیں۔غرض آج کفر اپنے