تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 136
اشارہ ہے اس کے مقابلہ میں عَذْبٌ فُرَاتٌ رکھا ہے۔اور حِجْرًا مَّحْجُوْرًا میں بتا دیا کہ گو تمہیں ان دونوں اقوام سے مل کر رہنا پڑےگا مگر ایسی حالت میں بھی تمہیں یاد رکھنا چاہیے کہ تم میٹھے پانی کا سمندر ہو اور وہ کڑوے پانی کا سمندر ہیں۔تم مغربیت کی کبھی نقل نہ کرو اور باوجود اُن میں ملے ہونے کے ایسے امور کے متعلق صاف طور پر کہہ دیا کرو کہ تم اَور ہو اور ہم اَور ہیں۔جیسے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ مومنوں کو ہدایت دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ تم کفار سے صاف طور پر کہہ دو کہ لَآ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ۔وَلَآ اَنْتُمْ عَابِدُوْنَ مَٓااَعْبُدُ (الکا فرون :۳۔۴) گو یا ایک برزخ تمہارے اور اُن کے درمیان ہمیشہ حائل رہنی چاہیے۔خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے اُس وقت سے لے کر قیامت تک دجالی فتنہ سے بڑا فتنہ اور کوئی نہیں ہوگا۔( مشکوٰۃ المصابیح باب العلامات بین یدی الساعۃ و ذکر الدجال ومسلم کتاب الفتن باب فی بقیة من احادیث الدجال) چنانچہ اس کی صداقت اس سے ظاہر ہے کہ پہلے زمانوں میں جو فتنے پیدا ہوئے تھے وہ صرف مقامی ہو تے تھے مثلاً ہندو ستان کا فتنہ مستقل ہوتا تھا اور وہ ایرانی فتنہ سے متاثر نہیں ہوتا تھا اور ایرانی فتنہ مستقل ہوتا تھا اور وہ یونانی فتنہ سے متاثر نہیں ہوتا تھا۔اسی طرح مصری فتنہ مستقل ہوتا تھا جو یونانی اور ایرانی فتنوں سے متاثر نہیں ہوتا تھا۔اس وجہ سے ان فتنوں کا دین پر متفقہ حملہ نہیں ہوتا تھا بلکہ اُن کی مثال بالکل ایسی ہی تھی جیسے ایک ملک میں ڈاکو لوٹ مار کر رہے ہوں تو کچھ ایک طرف سے حملہ آور ہوں اور کچھ دوسری طرف سے۔ڈاکوئوں سے ملک کاامن بیشک خطرہ میں پڑ جائےگا مگر حکومت تباہ نہیں ہوگی۔حکومت ہمیشہ منظم طاقتوں سے تباہ ہوا کرتی ہے۔لیکن موجودہ فتنہ کے زمانہ میں ریل اور تار او ر فون اور پریس کی ایجاد کی وجہ سے ایشیا افریقہ پر اثر انداز ہو رہا ہے اور افریقہ ایشیا پر اثر انداز ہو رہا ہے۔یورپ امریکہ پر اثر ڈال رہا ہے اور امریکہ یورپ پر اثر ڈال رہا ہے۔اس لئے مختلف ممالک میں جو مذہبی بے چینی پائی جاتی ہے وہ ساری دنیا میں یکساں طور پر پھیلی ہوئی ہے۔پس پہلے فتنوں اور موجودہ فتنہ میں یہ فرق ہے کہ یہ فتنہ ایک عالمگیر فتنہ ہے۔جاپان گو عیسائی نہیں مگر اس کے خیالات کی رویورپ کے تابع ہے۔چین گو عیسائی نہیں مگر اُس کے خیالات یورپ کے تابع ہیں۔اسی طرح ایران ، ترکستان اور عرب عیسائی نہیں ظاہر ًا مسلمان ممالک ہیں مگر اُن کے خیالا ت کی رو بھی یورپ کے تابع ہے۔غرض موجودہ زمانہ میں تمام تحریکات ایک سلک میں پروئی ہوئی اور ایک نظام کے ماتحت نظر آتی ہیں جس سے اس فتنہ کی ہیبت بہت بڑھ گئی ہے۔پہلے انسان یہ خیال کرتا تھا کہ ایرانی یا یونانی یوں کہتا ہے مگر اب یہ کہا جاتا ہے کہ دنیا کا ہر معقول پسند انسان یوں کہتا ہے۔پہلے اگر کسی کے سامنے یہ کہا جاتا تھا کہ ایرانیوں کا یہ عقیدہ ہے تو سننے والا دل میں کہہ سکتا تھا کہ شاید باقی دنیا کا عقیدہ اس کے خلا ف ہو اس لئے وہ مرعوب نہیں ہوتا تھا اور عملاً بھی ایسا