تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 135 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 135

دونوں ملے ہوئے ہوںگے اور بظاہر جب دو چیزیں مل جائیں تو دونوں کا ذائقہ بدل کر کچھ اور ہو جاتا ہے مگر ہماری طر ف سے یہ اعلان ہو رہا ہوگا کہ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا۔اے ملنے والو ! تمہارے ملنے کے یہ معنے نہیں کہ تم ایک دوسرے میں جذب ہو جائو بلکہ باوجود ملنے کے الگ الگ رہو۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس امر کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنی حکمت کاملہ کے ماتحت جس طرح مادی پانی کی دو قسم کے ذخیرے بنائے ہیں۔ایک ذخیرہ سمندر کے پانی کا بنایا ہے جو نمکین ہوتا ہے اور ایک ذخیرہ دریا کے پانی کا بنایا ہے جو میٹھا ہوتا ہے اور ان دونوں کے درمیان اُس نے ایسی حدود قائم کر دی ہیں جن کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کو خراب نہیں کر سکتے۔نہ کڑو ا سمندر میٹھے دریائوں کو خراب کر سکتا ہے اور نہ میٹھے دریا کڑو ے سمندر کی تلخی کو دُور کر سکتے ہیں۔اسی طرح آسمانی تعلیم جو میٹھے پانی کے مشابہ ہوتی ہے اور کفر کی تعلیم جو نمکین پانی سے مشابہت رکھتی ہے ان دونوں میں ایک نمایاں اور بیّن امتیاز موجود ہوتا ہے اور ایک حدِّ فاصل ان دونوں کو جُدا جُدا رکھتی ہے۔اس کے یہ معنے نہیں کہ کافر مومن نہیں بن سکتا یا مومن کافر نہیں بن سکتا۔بلکہ اس کے معنے یہ ہیں کہ کفر ایمان کی شکل اختیار نہیں کر سکتا اور ایمان کفر کی شکل اختیار نہیں کر سکتا۔اور ان دونوں میں اتنا نمایاں اور بیّن اختلاف ہوتا ہے کہ باوجود اس کے کہ ایک ملک ایک شہر بلکہ ایک محلہ میں مومن بھی رہتے ہیں اور کافر بھی۔وہ ایک دوسرے سے تعلقات بھی رکھتے ہیں اُن سے مل کر کام بھی کرتے ہیں اُن کی خوشی اور غمی میں شریک بھی ہوتے ہیں مگر ان تمام تعلقات کے باوجود رُوحانی نقطۂ نگاہ سے وہ آپس میں کلّی مغائرت رکھتے ہیں۔اور جو میٹھے ثمرات ایک سچے مذہب پر چلنے والے انسان کو حاصل ہو رہے ہوتے ہیں دوسرا شخص اُن سے بالکل محروم ہوتا ہے۔گو یا ایک برزخ ہے جو اُن دونوںکو جدا رکھتی ہے۔ایک سچے مذہب کا پیرو اللہ تعالیٰ کے کلام اور اُس کے الہام سے مشرف ہوتا ہے۔اُس کی دعائیں قبول ہوتی ہیں۔اُس پر آسمانی علوم اور معارف کا انکشاف ہوتا ہے۔مگر اُس کے پہلو میں بیٹھا ہوا ایک کافر انسان اس دنیا میں اندھوں کی طرح آتا اور اندھوں کی طرح ہی چلا جاتا ہے اور آبِ حیات کو زہر سمجھتے ہوئے اُس سے دُور رہتا ہے اور زہر کو تریاق سمجھتے ہوئے اُسے اپنے منہ سے لگائے رکھتا ہے۔غرض کفر اور ایمان کا اس دنیا میں موجود رہنا خدا تعالیٰ کی حکمت کے ماتحت ہے۔لیکن ان دونوں کے درمیان ایک حد فاصل قائم کر دی گئی ہے جو کفر اور ایمان کے امتیاز کو نمایاں کر تی رہتی ہے۔مگر کفر اور ایمان کے مقابلہ کے علاوہ اس میں مغربیت اور دجالیّت کے متعلق بھی پیشگوئی پائی جاتی ہے۔چنانچہ دیکھ لو قرآن کریم نے اپنے الفاظ میں ہی اس طرف اشارہ کر دیا ہے۔فرماتا ہے ھٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ اور اُجَاجٌ سے یا جوج اور ماجوج دونوں قوموں کی طرف