تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 130 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 130

سے لڑے جو مسلمان نہیں تاکہ اس کو مجبور کرکے اسلام میں داخل کیا جائے خواہ غیر مسلموں نے اُس پر زیادتی نہ کی ہو اور اُن سے کسی قسم کی دشمنی نہ کی ہو۔اور اُسے پڑھنے والے تجھ پر ان دلیلوں سے جو ہم پہلے بیان کر چکے ہیں روشن ہوچکا ہوگا اور ان دلیلوں سے جو ہم آئندہ بیان کریں گے اور بھی روشن ہو جائےگا کہ اسلام پر غیر مسلموں کا یہ الزام سراسر جھوٹ اور افتراء ہے۔‘‘ اسی طرح لکھتے ہیں : ’’ وہ تفصیل جو ہم نے او پر لکھی ہے اس سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ جہاد بالسیف کے مسئلہ میں مسلمانوں کا اجماع صرف اس بات پر ہے کہ جب مسلمانوں پر کوئی قوم حملہ کرے تو اُس وقت یہ جہاد فرض ہوتا ہے اور اس وقت بھی اسی صورت میں فرض ہوتا ہےجبکہ امامِ واجب الاطاعت جنگِ عام کا حکم دے۔لیکن اگر وہ صرف کچھ لوگوں کو اس لڑائی کا حکم دے تو صرف انہی لوگو ں پر یہ لڑائی فرض ہوگی باقی لوگوں پر فرض نہیں ہوگی۔‘‘ ( تفسیر المنار سورۃ التوبۃ قولہ تعالیٰ قاتلوا الذین لا یومنون ) آج کل مودودی صاحب جہاد پر بہت زور دے رہے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ علماء کے فتویٰ کے مطابق وہ کن لوگوں کو جہاد کی تلقین کر سکتے ہیں۔اگر وہ واجب الاطاعت امام ہیں تو یقیناً اُن کا فتویٰ صرف مودودیوںکے لئے ہی قابلِ عمل ہو سکتا ہے دوسرے لوگوںکے لئے نہیں۔مگر کوئی مودودی بتائے کہ کتنے مودودی تلوار لے کر غیر مسلموں سے لڑ رہے ہیں۔اور اگر کوئی مودودی بھی ایسا نہیں کر رہا تو اس کے معنے یہ ہیں کہ مودودیوں میں کوئی بھی صالح نہیں۔پس مودودیوں کو صالح جماعت کہنا نادانی اور حماقت ہے۔جو جماعت اپنے امیر کی بات بھی نہیں مانتی اور قرآن کی بات بھی نہیں مانتی اُسے صالح کون کہہ سکتا ہے۔اور جو امیر باوجود واجب الاطاعت ہونے کے اور جہاد کو ضروری سمجھنے کے اپنے پیروؤں کو جہاد کا حکم نہیں دیتا اُس امیر کو بھی کوئی صالح نہیں کہہ سکتا۔غرض بانی سلسلہ احمدیہ نے جہاد کے متعلق وہی تعلیم دی ہے جو پچھلے علماء بھی تسلیم کر تے چلے آئے ہیں اور اگر آپ نے کسی جگہ اس کے متعلق نسخ یا حرام کا لفظ استعمال کیا ہے جیسا کہ آپ فرماتے ہیں۔ع دیںکے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال (تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد نمبر ۱۷ صفحہ ۷۷) تو اس کے معنے محض اتنے ہی ہیں کہ وہ جہاد جو اس زمانہ میں جائز نہیں وہ حرام ہے۔یہ معنے نہیں کہ جہاد ہر صورت میں حرام ہے۔یہ امر کہ جہاں کہیں حرام یا منسوخ کا لفظ بانی سلسلہ احمدیہ نے لکھا ہے اس کے معنے حقیقی نسخ یعنی واقعی اور دائمی نسخ کے نہیں ہو سکتے۔اسی بات سے ثابت ہے کہ آپ اپنے آپ کو امتّی کہتے ہیں اور اگر جہاد خدا اور اُس کے رسول کا مقرر کیا ہوا ہے تو کسی امتّی کو کیا حق ہے کہ وہ خدا اور اُس کے رسول ؐ کے کسی حکم کو منسو خ کر ے۔