تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 126 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 126

بڑا اور عظیم الشان جہاد ہے۔یہ وہ تلوا ر ہے کہ جو شخص اس پر پڑے گا اس کا سر کاٹا جائےگا اور جس پر یہ پڑے گی وہ بھی مارا جائےگا یا اسلام کی غلامی اختیار کر کے زندہ جاوید ہو جائےگا۔اگر تیرہ سو سال میں بھی ساری دنیا میں اسلام نہیں پھیلا تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ یہ تلوار کند تھی بلکہ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ مسلمانوں نے اس تلوار سے کام لینا چھوڑ دیا۔آج خدا نے پھر احمدیت کو یہ تلوار دے کر کھڑا کیا ہے اور پھر اپنے دین کو دنیا کے تمام ادیان پر غالب کرنے کا ارادہ کیا ہے۔مگر کئی نادان مسلمان احمدیت پر حملہ کر تے ہو ئے کہتے ہیں کہ احمدی جہاد کے قائل نہیں۔اُن کی مثال بالکل ایسی ہی ہے جیسے کوئی شخص غلیلے لے کر قلعے پر حملہ کر رہا ہو تو یہ دیکھ کر کہ غلیلوں سے قلعہ کب فتح ہو سکتا ہے کچھ اور لوگ توپ خانہ لے کر آجائیں۔مگر غلیلے چلانے والا بجائے اس کے کہ اُن کا شکریہ ادا کرے اُن پر اعتراض کرنا شروع کر دے کہ یہ لوگ غلیلے کیوں نہیں چلاتے یہ نادان بھی اپنی نادانی کی وجہ سے اس شخص کو جہاد کا منکر قرار دیتے ہیں جس نے اسلام کو دنیاکے کونے کونے تک پہنچایا اور اپنے آپ کو صف اوّل کے مجاہدین میں شمار کرتے ہیں حالانکہ انہوں نے عمر بھر میں کسی ایک شخص کو بھی اسلام میں داخل نہیں کیا ہوتا۔نہ انہیں قرآن کریم کا کوئی علم ہوتا ہے وہ ہوش سنبھالنے سے لےکر بڈھے ہونے تک صرف اور نحو پڑھتے رہتے ہیں اور یہی دو علم پڑھ پڑھ کر ان کے دماغ خالی ہو جاتے ہیں۔انہوں نے ساری عمر کبھی قرآن کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا ہوتا۔اور نہ اس کے مطالب اور معانی پر کبھی غور کیا ہوتا ہے مگر اعتراض وہ اُس شخص پر کرتے ہیں جس کے نام سے بھی عیسائی پادریوں کا خون خشک ہوتا ہے۔اور جس کے ادنیٰ اور معمولی درجہ کے غلاموں سے بھی وہ بحث کرنےکے لئے تیار نہیں ہوتے حقیقت یہ ہے کہ جس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعویٰ کیا مسلمانوں کی عملی سُستی اور بے چارگی حد سے بڑھی ہوئی تھی۔عوام الناس کی قوتیں مفلوج ہو رہی تھیں اور خواص عیسائیت کے حملہ سے بچنےکے لئے اُس کی طرف صلح کا ہاتھ بڑھا رہے تھے۔اسلام کے خادم اپالوجسٹس کی صفوںمیں کھڑے اُن اسلامی عقائدکے لئے جنہیں یورپ ناقابلِ قبول سمجھتا تھا معذزتیں پیش کر رہے تھے۔اُس وقت بانئے سلسلہ احمدیہ نے ان طریقوں کے خلاف احتجاج کیا۔اُس وقت انہوں نے اپنی تنہا آواز کو دلیرانہ بلند کیا کہ اسلام کو معذرتوں کی ضرورت نہیں اُس کا ہر حکم حکمتوں سے پُر اور اُس کا ہر ارشاد صداقتوں سے معمور ہے۔اگر یورپ کو اس کی خوبی نظر نہیں آتی تو یا وہ اندھا ہے یا ہم شمع اُس کے قریب نہیں لے گئے۔پس اسلام کی حفاظت کا ذریعہ معذرتیں نہیں بلکہ اسلام کی حقیقی تعلیم کو یورپ تک پہنچانا ہے۔اُس وقت جبکہ یورپ کے اسلام لانے کا خیال بھی نہیں آسکتا تھا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے انگریزی میں اپنے مضامین ترجمہ کرا کے یورپ میں تقسیم کرائے۔اور جب خدا تعالیٰ نے آپ کو جماعت عطا فرمائی تو