تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 9
اعتقاداتِ حقّہ اور باطلہ کا علم ہو جاتا ہے اور اسی طرح یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ جھوٹی بات کون سی ہے اور سچّی کون سی۔( مفردات ) اَلْعَالَمِیْن : العَالَمِیْن اَلْعَالَمُ کی جمع ہے اور اَلْعَالَمُ کے معنے ہیں اَلْخَلْقُ کُلُّہٗ۔تمام مخلوق۔وَکُلُّ صِنْفٍ مِنْ اَصْنَافِ الْخَلْقِ۔نیز مخلوق کی ہر قسم پر عَالَم کا لفظ اطلاق پاتا ہے۔وَقِیْلَ یَخْتَصُّ بِمَنْ یَّعْقِلُ۔بعض لوگوں نے کہا ہے کہ یہ لفظ صرف ایسی مخلوق کے لئے بولا جاتاہے جس میں عقل ہو جیسے انسان اور فرشتے وغیرہ جانوروں وغیرہ کے لئے۔وَقَالَ بَعْضُھُمْ ھُوَ اِسْمٌ لِمَا یُعْلَمُ بِہٖ شَيْءٌ ثُمَّ سُمِّیَ بِہٖ مَایُعْلَمُ بِہِ الْخَالِقُ۔بعض نے کہا ہے کہ یہ تخصیص درست نہیں کہ یہ لفظ صرف ذوی العقول کے لئے بولا جاتا ہے بلکہ یہ لفظ ہر اُس چیزکے لئے بولا جاتا ہے جس سے کسی دوسری چیز کا علم ہو جائے۔پھر یہ لفظ ان چیزوںکے لئے مخصوص ہو گیا جن کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کی ذات کا علم حاصل ہوتا ہے۔(اَلْعَالَمِیْن کے متعلق مزید بحث کے لئے تفسیر کبیر جلد اوّل زیر آیت سورۃ الفاتحہ ۲ ملاحظہ فرمائیں ) اَلْعَالَمِیْنَ عَالَمٌ کی جمع ہے اور مخلوق کی ہر صنف اور قسم عالم کہلاتی ہے۔(مفردات امام راغب) اور عَالَمُوْنَ یا عَالَمِیْنَ کے سوا اس کی جمع عَلَالِمُ یا عَوَالِمُ بھی آتی ہے اور غیر ذوی العقول کی صفات میں سے ون یا یان سے صرف عَالَم یا یَاسَم دو لفظوں کی جمع بنتی ہے۔اور عالم مخلوق کو اس لئے کہتے ہیں کہ اس سے خالق کا پتہ لگتا ہے (اقرب) بعض مفسرین نے کہا کہ عَالَمٌ کی جمع عَالَمُوْنَ یا عَالَمِیْنَتب بنائی جاتی ہے جبکہ ذوی العقول کا ذکر ہو۔مثلاً انسان، فرشتے وغیرہ۔مگر یہ قاعدہ لغت کے بھی خلاف ہے۔اور قرآن کریم کے محاورہ کے بھی خلاف۔لغت کا حوالہ اوپر گزر چکا ہے۔قرآن کریم کی یہ آیت اس پر شاہد ہے۔قَالَ فِرْعَوْنُ وَ مَا رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ۔قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَيْنَهُمَا١ؕ اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِيْنَ۔قَالَ لِمَنْ حَوْلَهٗۤ اَلَا تَسْتَمِعُوْنَ۔قَالَ رَبُّكُمْ وَ رَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الْاَوَّلِيْنَ۔قَالَ اِنَّ رَسُوْلَكُمُ الَّذِيْۤ اُرْسِلَ اِلَيْكُمْ لَمَجْنُوْنٌ۔قَالَ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ مَا بَيْنَهُمَا١ؕ اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ۔(الشعر اء:۲۴تا۲۹) اس آیت میں عَالَمِین میں انسانوں کے سوا آسمان زمین اور ان کے درمیان کی سب اشیاء اور مغرب اور مشرق اور ان کے درمیان کی سب اشیاء کو عالمین میں شامل بتایا گیا ہے۔اسی طرح سورۃ حٰـمٓ سجدہ میں ہے۔قُلْ اَىِٕنَّكُمْ لَتَكْفُرُوْنَ بِالَّذِيْ خَلَقَ الْاَرْضَ فِيْ يَوْمَيْنِ وَ تَجْعَلُوْنَ لَهٗۤ اَنْدَادًا١ؕ ذٰلِكَ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ۔وَ جَعَلَ فِيْهَا رَوَاسِيَ مِنْ فَوْقِهَا وَ بٰرَكَ فِيْهَا وَ قَدَّرَ فِيْهَاۤ اَقْوَاتَهَا فِيْۤ اَرْبَعَةِ اَيَّامٍ١ؕ سَوَآءً لِّلسَّآىِٕلِيْنَ (حٰمٓ سجدہ :۱۰،۱۱) اس آیت میں بھی زمین اور پہاڑوں وغیرہ کو عالمین میں شامل کیا گیا ہے۔